مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 240
جس کے لئے قدرت سخت گوئی شرط ہے۔حقیقی عفو، جس کے لئے قدرت انتقام شرط ہے۔حقیقی شجاعت، جس کے لئے خوفناک دشمنوں کا مقابلہ شرط ہے۔حقیقی عدل، جس کے لئے قدرت ظلم شرط ہے۔حقیقی رحم، جس کے لئے قدرت سزا شرط ہے اور اعلیٰ درجہ کی زیرکی اور اعلیٰ درجہ کا حافظہ اور اعلیٰ درجہ کی فیض رسانی اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور اعلیٰ درجہ کا احسان جن کے لئے نمونے اور نظیریں شرط ہیں۔پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ اور موازنہ ہونا چاہئے نہ صرف ترکِ شر میں، جس کا بشپ صاحب معصومیت نام رکھتے ہیں۔کیونکہ نبیوں کی نسبت یہ خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ انہوں نے چوری ڈاکہ وغیرہ کا موقع پا کر اپنے تئیں بچایا یا یہ جرائم ان پر ثابت نہ ہو سکے بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ ’’مجھے نیک مت کہہ‘‘ یہ ایک ایسی وصیت تھی جس پر پادری صاحبوں کو عمل کرنا چاہئے تھا۔اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے درحقیقت شائق ہیں تواس مضمون کا اشتہار دے دیں کہ ہم مسلمانوں سے اس طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے کمالاتِ ایمانی واخلاقی و برکاتی و تاثیراتی و قولی و فعلی و ایمانی و عرفانی و علمی و تقدسی اور طریق معاشرت کی رو سے کون نبی افضل و اعلیٰ ہے۔اگر وہ ایسا کریں اور کوئی تاریخ مقررہ کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر ضرور جلسہ قرار دادہ پر حاضر ہو جائے گا، ورنہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے جس کا یہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کر لیں تو یہ شرط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے۔٭ راقم خاکسار ۲۵؍ مئی ۱۹۰۰ء مرزا غلام احمد از قادیان ۱؎ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ۳۷۹ تا ۳۸۳)