مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 216

شفاخانہ میں جہاں صدہا بیمار اور ہریک قسم کے مریض آتے ہوں بیٹھ کر ایک حاذق تجربہ کار ڈاکٹر کی کارروائیوں کو مشاہدہ کرو تو امید ہے کہ مشفق کے معنی تمہاری سمجھ میں آجائیں گے۔سو تعلیم قرآنی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ نیکوں اور ابرار اخیار سے محبت کرو اور فاسقوں اور کافروں پر شفقت کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؎ یعنی اے کافرو! یہ نبی ایسا مشفق ہے جو تمہارے رنج کو دیکھ نہیں سکتا اور نہایت درجہ خواہشمند ہے کہ تم ان بلائوں سے نجات پا جائو۔پھر فرماتا ہے۲؎ یعنی کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جائے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔مطلب یہ ہے کہ تیری شفقت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ تو اُن کے غم میں ہلاک ہونے کے قریب ہے اور پھر ایک مقام میں فرماتا ہے ۳؎ یعنی مومن وہی ہیں جو ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی نصیحت کرتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ شدائد پر صبر کرو اور خدا کے بندوں پر شفقت کرو۔اس جگہ بھی مراد مرحمت سے شفقت ہے کیونکہ مرحمت کا لفظ زبان عرب میں شفقت کے معنوں پر مستعمل ہوتاہے۔قرآنی تعلیم کا اصل مطلب یہ ہے کہ محبت جس کی حقیقت محبوب کے رنگ سے رنگین ہو جانا ہے بجز خدا تعالیٰ اور صلحا کے اور کسی سے جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے جیسا کہ فرماتا ہے۴؎ اور فرماتا ہے:۵؎ اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔۶؎ یعنی یہود اور نصاریٰ سے محبت مت کرو اور ہر ایک شخص جو صالح نہیں اس سے محبت مت کرو۔ان آیتوں کو پڑھ کر نادان عیسائی دھوکا کھاتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ عیسائی وغیرہ بے دین فرقوں سے محبت نہ کریں۔لیکن نہیں سوچتے کہ ہریک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اُسی صورت میں بجا لانا متصوّر ہے کہ جب ان کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے۔نہایت سخت جاہل وہ شخص ہوگا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو۔ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ پیار اور محبت اسی کا نام ہے کہ اس شخص کے قول اور فعل اور عادت اور اور مذہب کو رضا کے رنگ میں دیکھیں اور اس پر خوش ہوں اور اس کا اثر اپنے دل پر ڈال لیں اور ایسا ہونا مومن سے کافر کی ۱؎ التوبۃ: ۱۲۸ ۲؎ الشعراء: ۴ ۳؎ البلد: ۱۸ ۴؎ البقرۃ: ۱۶۶ ۵؎ المائدۃ: ۵۲ ۶؎ اٰل عمران: ۱۱۹