مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 213
پردہ پوشی کے لئے یہ خوب تدبیر کی۔کہ لوگوں کو باتوں باتوں میں سمجھا دیا کہ میری تعلیم کچھ اچھی نہیں۔آیندہ اس پر مضحکہ ہوگا بہتر ہے کہ تم ایک اور آنے والے کا انتظار کرو۔جس کی تعلیم معارف کے تمام مراتب کو پورا کرے گی۔مگر شاباش اے پادری صاحبان! آپ نے اس وصیت پر خوب ہی عمل کیا۔جس تعلیم کو خود آپ کے یسوع صاحب بھی قابل اعتراض ٹھہراتے ہیں۔اور ایک آئندہ آنے والے نبی مقدس کی خوشخبری دیتے ہیں۔اسی ادھوری تعلیم پر آپ گرے جاتے ہیں۔بھلا بتلائو تو سہی کہ آپ کے یسوع کی تعلیم خود اس کے اقرار سے ناقص ٹھہری یا ابھی کچھ کسر رہ گئی۔پھر جبکہ یسوع خود معترف ہے کہ میری تعلیم ادھوری اور نکمّی ہے۔تو پھر اپنے گرو کی پیشگوئی کو ذہن میں رکھ کر اسلامی تعلیم کی خوبیاں ہم سے سنو اور اپنے یسوع کو جھوٹا مت ٹھہرائو۔کیونکہ جب تک ایسا نبی دنیا میں ظہور نہ کرے جس کی تعلیم انجیل کی تعلیم سے اکمل اور اعلیٰ ہو۔تب تک یسوع کی پیشگوئی باطل کے رنگ میں ہے۔مگر وہ مقدس نبی تو آچکا اور تم نے اس کو شناخت نہیں کیا۔ہماری تحریروں پر غور کرو۔تاتمہیں معلوم ہوکہ وہ کامل تعلیم جس کی مسیح کو انتظار تھی۔قرآن ہے۔اور اگر یہ پیشگوئی نہ ہوتی۔تب بھی قرآن کا کامل اور انجیل کا ناقص ہونا خدا کی حجت کو پوری کرتا تھا۔سو جہنم کی آگ سے ڈرو اور اس آنے والے نبی کو مان لو۔جس کی نسبت مسیح نے بشارت دی۔اور اس کی کامل تعلیم کی تعریف کی۔مگر پھر بھی آپ کے یسوع کا اس میں کچھ احسان نہیں کیونکہ خود زور آور نے کمزور کو گرا دیا۔اب صرف سمجھ کا گھاٹا ہے۔ورنہ اب انجیل کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اسلامی تعلیم میں غیر مذہب والوں سے محبت کرنا کسی جگہ حکم نہیں آیا بلکہ حکم ہے کہ بجز مسلمان کے کسی سے محبت نہ کرو۔اما الجواب: پس واضح ہو کہ یہ تمام ناقص اور ادھوری انجیل کی نحوستیں ہیں کہ عیسائی لوگ حق اور حقیقت سے دور جا پڑے۔ورنہ اگر ایک گہری نظر سے دیکھا جائے کہ محبت کیا چیز ہے اور کس کس محل پر اس کو استعمال کرنا چاہئے۔اور بغض کیا چیز ہے اور کن کن مقامات میں برتنا چاہئے۔تو فرقان کریم کا سچا فلسفہ نہ صرف سمجھ میں ہی آتا ہے۔بلکہ روح کو اس سے معارفِ حقّہ کی ایک کامل روشنی ملتی ہے۔اب جاننا چاہئے کہ محبت کوئی تصنع اور ّتکلف کا کام نہیں۔بلکہ انسانی قویٰ میں سے یہ بھی ایک