مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 212

(۳)تیسرے یہ کہ دل نافرمانی پر عزیمت کرے یعنی پختہ ارادہ کرے کہ فلاں فعل بَد ضرور کروں گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱؎ یعنی جن گناہوں کو دل اپنی عزیمت سے حاصل کرے ان گناہوں کا مواخذہ ہوگا۔مگر مجرد خطرات پر مواخذہ نہیں ہوگا کہ وہ انسانی فطرت کے قبضہ میں نہیں ہیں۔خدائے رحیم ہمیں ان خیالات پر نہیں پکڑتا۔جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ہاں اس وقت پکڑتا ہے کہ جب ہم ان خیالات کی زبان سے یا ہاتھ سے یا دل کی عزیمت سے پیروی کریں۔بلکہ بعض وقت ہم ان خیالات سے ثواب حاصل کرتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے۔جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے۔۲؎ یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پُرس کی جائے گی۔اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھوں کے گناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا۔مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا٭ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں، گناہ میں داخل نہیں۔ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے۔جب ان پر عزیمت کرے۔اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کر لیوے۔ایسا ہی اللہ شانہٗ اندرونی گناہوں کے بارے میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔۳؎ یعنی خدا نے ظاہری اور اندرونی گناہ دونوں حرام کر دیئے۔اب میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ عمدہ تعلیم بھی انجیل میں موجود نہیں کہ تمام عضووں کے گناہ کا ذکر کیا ہو اور عزیمت اور خطرات میں فرق کیا ہو اور ممکن نہ تھا کہ انجیل میں یہ تعلیم ہوسکتی۔کیونکہ یہ تعلیم نہایت لطیف اور حکیمانہ اصولوں پر مبنی ہے۔اور انجیل تو ایک موٹے خیالات کا مجموعہ ہے جس سے اب ہر یک محقق نفرت کرتا جاتا ہے۔ہاں آپ کے یسوع صاحب نے ۱؎ البقرۃ: ۲۲۶ ۲؎ بنی اسرآء یل: ۳۷ ٭ نوٹ: ثواب اس وقت حاصل کرتے ہیں۔جب ہم دلی خیالات کا جو معصیت کی رغبت دیتے ہیں۔اعمالِ صالح کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں اور ان خیالات کے برعکس عمل میں لاتے ہیں۔منہ ۳؎ الاعراف: ۳۴