مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 203

قرآنی ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات رحمت اور مغفرت کے بالکل مطابق ہے۔لیکن آپ کے اقرار سے یہ معلوم ہوا کہ یہ تعلیم انجیل کی نہیں ہے۔اور انجیل کی رو سے یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عیسائی کسی فوق الطاقت دکھ کے وقت عیسائی دین کی گواہی سے زبان سے انکار کرے تو وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگیا۔اور اب انجیل اس کو اپنی جماعت میں جگہ نہیں دے گی۔اور اس کے لئے کوئی توبہ نہیں۔شاباش! شاباش! آج تم نے اپنے ہاتھ سے مہر لگا دی کہ یہ انجیل جو تمہارے ہاتھ میں ہے ایک جھوٹی انجیل ہے۔خیر اب ہمارے وار سے بھی خالی نہ جائو۔اور جو نیچے لکھتا ہوں۔اس کا جواب دو۔ورنہ اگر کچھ حیا ہے تو عیسائی مذہب سے توبہ کرو۔اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں بقول آپ کے وہ تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتی۔کہ جو ایمان کے چھپانے والے کو اس کی توبہ اور اعمالِ صالحہ اور صبر اور ثبات کے بعد معافی کا وعدہ دے اور رحمت الٰہی سے ردّ نہ کرے۔تو پھر انجیل کی تعلیم کس قدر سچائی سے دور ہوگی۔جس نے پطرس کو باوجود اس کی نہایت مکروہ بداعمالی اور دروغ گوئی اور سخت انکار اور جھوٹی َقسم اور مسیح پر لعنت بھیجنے اور ایمان کو پوشیدہ کرنے کے پھر قبول کر لیا۔٭آپ کا اعتراض تو صرف اتنا تھا کہ قرآن نے ایسے لوگوں کو بھی اسلام سے ردّ نہیں کیا جو کسی خوف سے اسلام کا زبان سے انکار کر دیں مگر انجیل نے تو اس بارے میں حد کر دی کہ ایسے شخص کو بھی پھر قبول کر لیا۔جس نے نہ صرف ایمان کو پوشیدہ کیا بلکہ صاف انکار کیا اور اپنے جھوٹ کو سچ ظاہر کرنے کے لئے قسم کھائی۔بلکہ یسوع صاحب پر لعنت بھی بھیجی۔اور اگر کہو کہ انجیل کی تعلیم نے اس کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اب تک مردود اور ایمان سے خارج ہے تو اس عقیدہ کا اشتہار دے دو۔اب کہو قرآن پر اعتراض کرنے سے کچھ سزا پائی یا نہیں؟ آپ اپنے خط میں لکھتے ہیں۔کہ کسی امر کا جواب دینا اور بات ہے مگر معقول طور پر جواب دینا اور بات ہے۔اب بتائو معقولی طور پر یہ جواب ہیں یا نہیں اور ابھی وقت آیا یا نہیں کہ ہم لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین کہہ دیں؟ آپ نے یہ بھی خط میں لکھا ہے کہ محمدی لوگ جواب تو دیتے ہیں مگر وہ عقل کے سامنے جواب ٭ نوٹ: گواہی کا چھپانا اور دل میں رکھنا تو درکنار عیسائی تو انجیل کے مرتدوں کو بھی ایمان لانے پر پھر واپس لے لیتے ہیں۔منہ