مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 202
بلکہ دل اس کا ایمان سے لبالب ہو۔اور صرف یہ نیت ہو کہ وہ اس ناقابل برداشت سختی کی وجہ سے اپنے دین کو چھپاتا ہے مگر نہ عمداً۔بلکہ اس وقت جبکہ فوق الطاقت عذاب پہنچنے سے بے حواس اور دیوانہ سا ہوجائے تو خدا اس کی توبہ کے وقت اس کے گناہ کو اس کی شرائط کی پابندی سے جو نیچے کی آیت میں مذکور ہیں معاف کر دے گا۔کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔اور وہ شرائط یہ ہیں۔ ٌ ۱؎ یعنی ایسے لوگ جو فوق الطاقت دکھ کی حالت میں اپنے اسلام کا اخفا کریں۔ان کا اس شرط سے گناہ بخشا جائے گا کہ دکھ اٹھانے کے بعد پھر ہجرت کریں۔یعنی ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے نکل جائیں جہاں دین پر زبردستی ہوتی ہے۔پھر خدا کی راہ میں بہت ہی کوشش کریں اور تکلیفوں پر صبر کریں۔ان سب باتوں کے بعد خدا ان کا گناہ بخش دے گا۔کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔اب ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی فوق الطاقت دکھ کے وقت بھی جو دشمنوں سے اس کو پہنچے۔دین اسلام کی گواہی کو پوشیدہ کرے وہ بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہ گار ہے۔مگر خدمات شائستہ دکھلانے کے بعد اور ایسی عادت یا ایسا ملک چھوڑ دینے کے بعد جس میں زبردستی کی جاتی ہے اور صبر اور استقامت کے بعد اس کا گناہ معاف کیا جائے گا اور خدا اس کو ضائع نہیں کرے گا۔کیونکہ وہ رحمن و رحیم ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے اس اخفا کو محل مدح میں نہیں رکھا بلکہ ایک گناہ قرار دیا ہے۔اور اس گناہ کا کفارہ پچھلی آیت میں بتلا دیا ہے۔اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔جابجا ان مومنوں کی تعریف کی ہے جو دین کی گواہی کو نہیں چھپاتے۔اگرچہ جان جائے۔ہاں ایسے شخص کو بھی ردّ کرنا نہیں چاہا جو اپنی ضعف استعداد اور فوق الطاقت عذاب کی وجہ سے ّ َمعذب ہونے کی حالت میں دین کی گواہی کو پوشیدہ رکھے۔بلکہ اس کو اس شرط سے قبول کر لیا ہے کہ آئندہ ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے جس میں زبردستی ہوتی ہے۔علیحدہ ہو جائے۔اور اپنے صدق اور ثبات اور مجاہدات سے اپنے ربّ کو راضی کرے۔تب یہ گناہ دین کے اخفا کا معاف کیا جائے گا۔کیونکہ وہ خدا جس نے عاجز بندوں کو پیدا کیا ہے۔نہایت کریم و رحیم خدا ہے۔وہ کسی کو تھوڑے کئے اپنی جناب سے ردّ نہیں کرتا۔یہ تو تعلیم ۱؎ النحل: ۱۱۱