مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 201

اور اگر نکلا تو یہ نکلا کہ اِیْلِی اِیْلِی لِمَا سَبَقْتَنِیْ ۱؎ اے میرے خدا !اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا۔اور خدا نے کچھ جواب نہ دیا کہ اس نے ترک کر دیا۔مگر بات تو ظاہر ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا۔تکبر کیا ترک کیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخر وقت میں مخیر کیا کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آئو۔آپ نے عرض کیا کہ اے میرے ربّ! اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آئوں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہّر رخصت ہوگئی۔یہی تھا کہ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔اب دونوں کلموں کو وزن کرو۔آپ کے خدا صاحب نے نہ فقط ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعا کی بلکہ صلیب پر بھی ّچلا ّچلا کر روئے کہ مجھے موت سے بچالے۔مگر کون سنتا تھا۔لیکن ہمارے مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے لئے ہرگز دعا نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ مختار کیا کہ اگر زندگی کی خواہش ہے تو یہی ہوگا۔مگر آپ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا۔کیا یہ خدا ہے جس پر بھروسہ ہے۔ڈوب جائو!!! اور آپ کا یہ زُعم کہ قرآن اپنے دین کو چھپا لینے کے لئے حکم دیتا ہے۔محض بہتان اور افتراء ہے۔جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔قرآن تو ان پر لعنت بھیجتا ہے٭ جو دین کی گواہی کو عمداً چھپاتے ہیں۔اور ان پر لعنت بھیجتا ہے جو جھوٹ بولتے ہیں۔شاید آپ نے قرآن کی اس آیت سے بوجہ نافہمی کے دھوکا کھایا ہوگا۔جو سورۃ النحل میں مذکور ہے۔اور وہ یہ ہے ۲؎ یعنی کافر عذاب میں ڈالے جائیں گے۔مگر ایسا شخص جس پر زبردستی کی جائے۔یعنی ایمانی شعار کے ادا کرنے سے کسی فوق الطاقت عذاب کی وجہ سے روکا جائے اور دل اس کا ایمان سے تسکین یافتہ ہے۔وہ عند اللہ معذور ہے۔مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی مسلمان کو سخت درد ناک اور فوق الطاقت زخموں سے مجروح کرے اور وہ اس عذاب شدید میں کوئی ایسے کلمات کہہ دے کہ اس کافر کی نظر میں کفر کے کلمات ہوں مگر وہ خود کفر کے کلمات کی نیت نہ کرے ٭ نوٹ: لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ (اٰل عمران: ۶۲) قرآن شریف میں ہے یا انجیل میں؟ جواب تو دو۔منہ ۱؎ متی باب ۲۷ آیت ۴۶ ۲؎ النحل: ۱۰۷