مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 193
مکتوبات احمد ۱۹۳ جلد اول دیوشیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا، یہ کس بات کا نتیجہ ہے؟ کیا اس مقدس مطہر ، مزکی ، نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں، یہ نتیجہ ہے اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفن اور زہریلی ہیں، یہ ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص ، نالائق کتاب ، پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے؟ اب دوزانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزاء کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔ ہاں ! مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے، اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا ۔ ہم تو سوچ کر تھک گئے ۔ اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں ۔ آپ یا درکھیں کہ ہم بقول آپ کے مرد میدان بن کر ہی رسالہ لکھیں گے! اور آپ کو دکھائیں گے کہ وساوس کی بیخ کنی اسے کہتے ہیں ۔ اس جاہل گمراہ کو شکست دینا کونسی بڑی بات ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے۔ مگر آپ از راہِ مہربانی ان چند باتوں کا جو میں نے دریافت کی ہیں ، ضرور جواب لکھیں اور ان الفاظ سے ناراض نہ ہوں جو لکھے گئے ہیں کیونکہ الفاظ محل پر چسپاں ہیں اور آپ کی شان کے شایان ہیں ۔ جس حالت میں آپ نے باوجود بے علمی اور جہالت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سید المطہرین ہیں ، زنا کی تہمت لگائی جو اس پلید اور جھوٹ افتراء کا یہی جواب تھا جو آپ کو دیا گیا۔ ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ بھلے مانس بن جاویں اور گالیاں نہ دیا کریں مگر آپ لوگ نہیں مانتے ۔ آپ ناحق اہل اسلام کا دل دکھاتے ہیں ۔ آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زنا کار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ اگر آپ لوگ مسیح کے خیر خواہ ہوتے تو ہم سے جناب مقدس نبوی کے ذکر میں بادب پیش آتے ۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ تم اپنے باپ کو گالی مت دو ۔ لوگوں نے عرض کی کہ کوئی باپ کو بھی گالی دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! جب تو کسی کے باپ کو بھی گالی دے گا تو وہ ضرور تیرے باپ کو بھی گالی دے گا ۔ تب وہ گالی اس نے نہیں دی بلکہ تو نے دی ہے۔ اسی طرح آپ لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے بودے جھوٹے خدا کی بھی اچھی طرح بھگت سنواری جائے ۔ اب ہم یہ خط بطور نوٹس کے آپ کو بھیجتے ہیں کہ اگر پھر ایسے ناپاک لفظ آپ نے استعمال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں نا پاک تہمت لگائی تو ہم بھی آپ کے فرضی اور جعلی خدا کی