مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 192

مکتوبات احمد ۱۹۲ جلد اول کوئی عقلمند قبول کر سکتا ہے کہ اگر کثرت ازدواج خدا کی نظر میں بری تھی تو خدا اسرائیلی نبیوں کو جو کثرت ازدواج میں سب سے بڑھ کر نمونہ ہیں ، ایک مرتبہ بھی اس فعل پر سرزنش نہ کرتا ۔ پس یہ سخت بے ایمانی ہے کہ جو بات خدا کے پہلے نبیوں میں موجود ہے اور خدا نے اُسے قابل اعتراض نہیں ٹھہرایا۔ اب شرارت اور خباثت سے جناب مقدس نبوی کی نسبت قابل اعتراض ٹھہرائی جاوے۔ افسوس یہ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک سے اوپر بیوی کرنا زنا کاری ہے تو حضرت مسیح جو داؤد کی اولاد کہلاتے ہیں اُن کی پاک ولادت کی نسبت سخت مشبہ پیدا ہوگا اور کون ثابت کر سکے گا کہ ان کی بڑی نانی حضرت داؤد کی پہلی ہی بیوی تھی ۔ رض پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہ کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا ۔ اب اس نا پاک تعصب پر کہاں تک روویں ۔ - اے نادان ! جو حلال اور جائز نکاح ہیں ان میں یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں ۔ یہ اعتراض کیسا ہے۔ کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں ۔ ہاں ! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حُسنِ معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے ۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اُٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے ادھر اُدھر نکل گئیں اور آخر نا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی ۔ د اے نادان ! فطرت انسانی اور اس کے سچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے۔ اسلام کے بانی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اُسے برتا اور اپنی جماعت کو نمونہ دیا میں نے اپنے نقض تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی ۔ مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے ۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا نا پاک چکلہ بن جانا ، ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آ کر آہ و فغاں کرنا اور برسوں