مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 191
یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔آپ عربی علم سے محض بے نصیب اور سخت جاہل ہیں۔ذرا قادیان کی طرف آؤ اور ہمیں ملو تو پھر آپ کے آگے کتابیں رکھی جائیں گی تاجھوٹے مفتری کو کچھ سزا تو ہو۔ندامت کی سزا ہی سہی اگرچہ ایسے لوگ شرمندہ بھی نہیں ہوا کرتے۔مال مسروقہ کو آپ کے مسیح کے رو برو بزرگ حواریوں کاکھانا یعنی بیگانے کھیتوں کی بالیاں توڑنا۔کیایہ درست تھا؟ اگر کسی جنگ میں کفّارکے بلوے اور خطرناک حالت کے وقت نماز عصر تنگ وقت پر پڑھی گئی تو اس میں صرف یہ بات تھی کہ دو عبادتوں کے جمع ہونے کے وقت اس عبادت کو مقدم سمجھا گیا۔جس میں کفّار کے خطرناک حملہ کی روک اور اپنے حقوق نفس اور قوم اور ملک کی جائز اور بجا محافظت تھی اور یہ تمام کارروائی اس شخص کی تھی جو شریعت لایا اور یہ بالکل قرآن کریم کے منشاء کے مطابق تھی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔۱؎ یعنی نبی کی ہر ایک بات خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے۔نبی کا زمانہ نزول شریعت کا زمانہ ہوتا ہے اور شریعت وہی ٹھہر جاتی ہے جو نبی عمل کرتا ہے۔ورنہ جو جو کارروائیاں مسیح نے توریت کے برخلاف کی ہیں۔یہاں تک کہ سبت کی بھی پرواہ نہ رکھی اور کھانے پر ہاتھ نہ دھوئے۔وہ سب مسیح کو مجرم ٹھہراتے ہیں۔ذرا توریت سے ان سب کا ثبوت تو دو۔مسیح پطرس کو شیطان کہہ چکا تھا۔پھر اپنی بات کیوں بھول گیا اور شیطان کو حواریوں میں کیوں داخل رکھا؟ اور پھر آپ کا اعتراض ہے کہ بہت سی عورتوں اور لونڈیوں کو رکھنا یہ فسق و فجور ہے۔اے نادان! حضرت داؤد علیہ السلام نبی کی بیبیاں تجھ کو یاد نہیں، جس کی تعریف کتاب مقدس میں ہے۔کیا وہ اخیر عمر تک حرام کاری کرتا رہا۔کیا اسی حرامکاری کی یہ پاک ذرّیت ہے جس پر تمہیں بھروسہ ہے۔جس خدا نے اوریا کی بیوی کے بارہ میں داؤد پر عتاب کیا کیا؟ وہ داؤد کے اس جرم سے غافل رہا؟ جو مرتے دم تک اس سے سرزد ہوتا رہا بلکہ خدا نے اس کی چھاتی گرم کرنے کو ایک اور لڑکی بھی اُسے دی۔اور آپ کے خدا کی شہادت موجود ہے کہ داؤد اوریا کے قصہ کے سوا اپنے کاموں میں راستباز ہے۔کیا ۱؎ النجم: ۴،۵