مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 190

مکتوبات احمد ۱۹۰ جلد اول - اس بات کا ثبوت انجیل میں سے دو کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے۔ یا یہ کہ اپنے مسیح کی تعلیم کو ناقص مان لو یا یہ ثبوت دو کہ بائیبل کی رو سے متبنی فی الحقیقت بیٹا ہو جاتا اور بیٹے کی طرح وارث ہو جاتا ہے اور اگر کچھ ثبوت نہ دے سکو تو بجز اس کے اور کیا کہیں لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ مسیح بھی تم پر لعنت کرتا ہے کیونکہ مسیح نے انجیل میں کسی جگہ نہیں کہا کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ تینوں امر ہم شکل ہیں ۔ اگر صرف منہ کے کہنے سے ماں نہیں بن سکتی تو پھر بیٹا بھی نہیں بن سکتا اور نہ باپ بن سکتا ہے ۔ اب اگر کچھ حیا ہو تو مسیح کی گواہی قبول کر لو یا اس کا کچھ جواب دو اور یاد رکھو کہ ہر گز نہیں دے سکو گے ۔ اگر چہ فکر کرتے کرتے مرہی جاؤ کیونکہ تم کا ذب ہو اور مسیح تم سے بیزار ہے اور آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق گے تم کا ہوا کھودنے کے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں ۔ اول آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اے نادان ! قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں ۔ ترک نماز کا نام قضا ہرگز نہیں ہوتا۔ اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے۔ اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بیوقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی قضا کے معنی بھی معلوم نہیں ۔ جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا۔ وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔ باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں ۔ اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ رهای که چار سوسہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا نا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو جو انسان کی کی تباہی کا موجب ہو۔ ہے۔ اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار ( نمازیں ) جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی ۔ اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم ذرا آپ کو بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں ۔ چار نمازیں تو خود شرع کے رو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء ۔ ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور اور اور مغرب اور عشاء کو اکٹھی کر کے پڑھی گئیں تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کورڈ کرتی ہیں اور صرف لے اس کا جواب نہ ہو سکا اور فتح مسیح مرگیا ( عرفانی )