مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 188
طرف چالان کیا اور وہ ایک مدت تک شاہی حوالات میں رہے۔کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی اور کسی بادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا فخر ہوگا اگر میں اس کی خدمت میں رہوں اور اس کے پاؤں دھویا کروں۔بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے حوالے کر دیا۔کیا یہی خدائی تھی؟ عجیب مقابلہ ہے۔دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجہ میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں۔ایک شخص کے گرفتار کرنے کو ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برانگیختہ ہونا اور خود آخر لعنت الٰہی میں گرفتار ہو کر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلّت کے ساتھ قتل کیا جانا اور ایک دوسرا انسان ہے جسے قطع نظر اپنے اصلی دعوؤں کے غلوکرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رکھا ہے۔سچ مچ گرفتار ہو جانا،چالان کیا جانا اور عجیب ہئیت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جانا… افسوس یہ عقل کی ترقی کا زمانہ اور ایسے بیہودہ عقائد۔شرم! شرم! شرم!!! اگر یہ کہو کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میںجناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں ایک ادنیٰ خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعدہ کتاب اللّٰہ صحیح بخاریکی عبارت لکھتا ہوں۔ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے:۔وَقَدْ کُنْتُ اَعْلَمُ اَنَّہٗ خَارِجٌ لَمْ اَکُنْ اَظُنُّ اَنَّہٗ مِنْکُمْ فَلَوْ اَنِّیْ اَعْلَمُ اَنِّیْ اَخْلُصُ اِلَیْہِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَائَ ہٗ وَلَوْ کُنْتُ عِنْدَہٗ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَیْہِ ۱؎ یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہے (اے اہل عرب) پیدا ہوگا۔پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا۔اب اگر کچھ غیرت اور شرم ہے تو مسیح کیلئے۔یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا، پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل ہی سے، بلکہ پیش کرو اگرچہ کوئی نجاست میں پڑا ہوا ورق ہی پیش کر دو۔اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹا سا نواب ہی پیش ۱؎ بخاری کتاب بدء الوحی