مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 185
یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شاید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جاؤں گی تو اُس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی۔آپ نے اس کی یہ درخواست قبول فرمالی۔ابن سعد اور سعید ابن منصور اور ترمذی اور عبدالرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کرکے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کے تَوارُد اور تظاہر کو نظر انداز کرکے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں بھی کوئی بُرائی نہیں اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرد اس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں اگر اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کارروائی کرے تو عندالعقل کچھ جائے اعتراض نہیں۔پادری صاحب! آپ کا یہ سوال کہ اگر آج ایسا شخص (جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے) گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتا تو گورنمنٹ اس سے کیا کرتی؟آپ کو واضح ہو کہ اگر وہ سیّد الکونین اس گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوتے تو یہ سعادت مند گورنمنٹ اُن کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتی جیسا کہ قیصر روم صرف تصویر دیکھ کر اُٹھ کھڑاہوا تھا۔آپ کی یہ نالیاقتی اور ناسعادتی ہے کہ اس گورنمنٹ پر ایسی بدظنی رکھتے ہیں کہ گویا وہ خدا کے مقدسوں کی دشمن ہے یہ گورنمنٹ اس زمانہ میں ادنیٰ ادنیٰ امیر مسلمانوں کی عزت کرتی ہے۔دیکھو نصراللہ خان جو اُس جناب کے غلاموں جیسا بھی درجہ نہیں رکھتا۔ہماری قیصر ہند دام اقبالہا نے کیسی اُس کی عزت کی ہے۔پھر وہ عالی جناب مقدس ذات جو اس دنیا میں بھی وہ مرتبہ رکھتا تھا کہ بادشاہ اس کے قدموں پر گرتے تھے۔اگر وہ اس وقت میں ہوتا تو بے شک یہ گورنمنٹ اس کی جناب سے خادمانہ اور متواضعانہ طور پر پیش آتی۔الٰہی گورنمنٹ کے آگے انسانی گورنمنٹوں کو بجز عجز و نیاز کے کچھ بن نہیں پڑتا۔کیا آپ کو خبر نہیں کہ