مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 184

پادری صاحب! آپ کا یہ خیال کہ نو برس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے، سراسر غلط ہے۔آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے۔انجیل نے آپ کو دھکے دیئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں میں آ پڑے یا درکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں۔جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا، یہ افترا شیطانوں کا کام ہے۔ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات اور خبیث لوگوں نے سخت افترا کئے ہیں۔چنانچہ ان پلیدوں نے لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ پہلے نبی کو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور دوسرے کو ولد زنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے۔آپ کو چاہیے کہ ایسے اعتراضوں سے پرہیز کریں۔اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کیلئے مستعد ہوگئے تھے، سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتے کہ کس شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا۔پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابلِ رغبت نہیں رہی، ایسا نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بباعث طبعی کراہت کے جو نشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے۔اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میرا حشر ہو چنانچہ نیل الاوطار کے صفحہ ۱۴۰ میں یہ حدیث ہے۔ولقد قالت سودۃبنت زمعۃ حین أسنّت وخافت أن یفار قھا رسولُ اللّٰہﷺ: یارسولَ اللّٰہ وھبت یومی لعائشۃ فقبّل ذلک منھا ورواہ أیضاً ابن سعد و سعید بن منصور والترمذی وعبدالرزاق قال الحافظ فی الفتح فتواردت ھٰذہ الروایات علی انھا خشیت الطلاق فوھبت۔٭ ٭ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار۔جلد۶ صفحہ۲۴۶