مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 183
لڑکیوں کی بلوغ کا زمانہ اٹھارہ برس قرار دیا گیا ہے اور گرم ملکوں میں تو لڑکیاں بہت جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔آپ اگر گورنمنٹ کے قوانین کو کالوحی من السماء سمجھتے ہیں کہ اُن میں امکان غلطی نہیں۔تو ہمیں بواپسی ڈاک اطلاع دیں تا انجیل اور قانون کاتھوڑا سا مقابلہ کر کے آپ کی کچھ خدمت کی جائے۔غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی توریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں۔اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج دیں۔پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو اُن کا ذکر کرنا یا توحمق کی وجہ سے ہے یا تعصّب کے سبب سے۔مگر آپ معذور ہیں۔اگر گورنمنٹ کو اپنے قانون پر اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور نو برس کی عمر کے متعلق آپ اعتراض کر کے پھر توریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے صرف گورنمنٹ کے قانون کا ذکر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا توریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ورنہ نو برس کی حرمت یا تو توریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہئے تھی۔پادری صاحب یہی تو دجل ہے کہ الہامی کتب کے مسائل میں آپ نے گورنمنٹ کے قانون کو پیش کر دیا۔اگر آپ کے نزدیک گورنمنٹ کے قانون کی تمام باتیں خطا سے خالی ہیں اور الہامی کتابوں کی طرح، بلکہ ان سے افضل ہیں۔تو میں آپ سے پوچھتا ہوںکہ جن نبیوں نے خلاف قانون انگریزی کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کئے اگر وہ اس وقت ہوتے تو گورنمنٹ اُن سے کیا معاملہ کرتی۔اگر وہ لوگ گورنمنٹ کے سامنے چالان ہو کر آتے جنہوں نے بیگانے کھیتوں کے خوشے توڑ کر کھا لئے تھے تو گورنمنٹ ان کو اور ان کے اجازت دینے والے کو کیا کیا سزا دیتی؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ وہ شخص جو انجیر کا پھل کھانے دوڑا تھا اور انجیل سے ثابت ہے کہ وہ انجیر کا درخت اس کی ملکیت نہ تھا بلکہ غیر کی مِلک تھا، اگر وہ شخص گورنمنٹ کے سامنے یہ حرکت کرتا تو گورنمنٹ اس کو کیا سزا دیتی؟انجیل سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے سؤر جوبیگانہ مال تھے اور جن کی تعداد بقول پادری کلارک دو ہزار تھی۔مسیح نے تلف کئے۔اب آپ ہی بتلائیں کہ تعزیرات کی رو سے اس کی سزا کیا ہے؟ بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے جواب ضرور لکھیں تا اور بہت سے سوال کئے جائیں۔