مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 182
مکتوبات احمد ۱۸۲ جلد اول کی بڑی مہربانی ہوئی کہ آپ ہی محرک ہو گئے ۔ امید ہے کہ دوسرے پادری صاحبان آپ پر بہت ہی خوش ہوں گے۔ اور کچھ تعجب نہیں کہ ہمارا رسالہ نکلنے کے بعد آپ کی کچھ ترقی بھی ہو جاوے۔ پادری صاحب ! ہمیں آپ کی حالت پر رونا آتا ہے کہ آپ زبان عربی سے تو بے نصیب تھے ہی مگر وہ علوم جو دینیات سے کچھ تعلق رکھتے ہیں جیسے طبعی اور طباء اور طبابت ، ان سے بھی آپ بے بہرہ ہی ثابت ہوئے ۔ آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اول تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواتر سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے ۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے ۔ جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر نا خواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔ پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نو برس ہی تھے لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا۔ مگر احمق کا کوئی علاج نہیں ۔ ہم آپ کو اپنے رسالہ میں ثابت کر کے دکھاویں گے کہ حال کے محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ نو برس تک بھی لڑکیاں بالغ ہو سکتی ہیں۔ بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہو سکتی ہے ۔ اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صد ہا لوگوں کی یہ بات چشم دید ہے کہ اسی ملک میں آٹھ آٹھ نو نو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولا د موجود ہے۔ مگر آپ پر تو کچھ بھی افسوس نہیں اور نہ کرنا چاہئے کیونکہ آپ صرف متعصب ہی نہیں بلکہ اول درجہ کے احمق بھی ہیں ۔ آپ کو اب تک اتنی خبر بھی نہیں کہ گورنمنٹ کے قانون عوام کی درخواست کے موافق انکی رسم اور سوسائٹی کی عام وضع کی بنا پر تیار ہوتے ہیں ۔ اُن میں فلاسفروں کی طرز پر تحقیقات نہیں ہوتی ۔ اور جو بار بار آپ گورنمنٹ انگریزی کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے شکر گزار ہیں اور اس کے خیر خواہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں رہیں گے ۔ مگر تا ہم ہم اس کو خطا سے معصوم ہیں سمجھتے اور نہ اس کے قوانین کو حکمانہ تحقیقاتوں پر مبنی سمجھتے ہیں ۔ بلکہ قوانین بنانے کا اصول رعایا کی کثرت رائے ہے۔ گورنمنٹ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تا وہ اپنے قوانین میں غلطی نہ کرے۔ اگر ایسے ہی قوانین محفوظ ہوتے تو ہمیشہ نئے نئے قانون کیوں بنتے رہتے ۔ انگلستان میں -