مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 181
مکتوبات احمد ۱۸۱ جلد اول مکتوب نمبر ۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفی ۔ اما بعد واضح ہو کہ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سبّ و شتم استعمال کئے ۔ اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔ لہذا یہ رسالہ لکھا گیا ۔ امید کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرا یہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت نا پاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض میں ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے ۔ کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے اور اب ہم اس کے خط کا جواب ذیل میں لکھتے ہیں ۔ وھو ھذا مشفقی پادری صاحب ! بعد ما وجب ۔ اس وقت مجھے بہت کم فرصت ہے مگر میں نے جب آپ کا وہ خط دیکھا جو آپ نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے نام بھیجا تھا۔ مناسب سمجھا کہ اپنے اس رسالہ کی جو زیر تالیف ہے خود ہی آپ کو بشارت دوں ۔ تا آپ کو زیادہ تکلیف اُٹھانے کی ضرورت نہ رہے۔ یاد رکھیں یہ رسالہ ایسا ہو گا کہ آپ بہت ہی خوش ہو جائیں گے ۔ آپ کی اُن مہربانیوں کی وجہ سے جو اب کی دفعہ آپ کے خط میں بہت ہی پائی جاتی ہیں ۔ میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ اس رسالہ کی وجہ اشاعت صرف آپ ہی کی درخواست قرار دی جاوے۔ کیونکہ جس مضمون کے لکھنے کیلئے اب ہم طیار ہیں ۔ اگر آپ کا یہ خط نہ آیا ہوتا جس میں جناب مقدس نبوی اور حضرت عائشہ صدیقہ اور سودہ کی نسبت آپ نے بد زبانی کی ہے تو شاید وہ مضمون دیر کے بعد نکلتا۔ یہ آپ