مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 169

مکتوبات احمد ۱۶۹ مکتوب نمبر ۵ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے نام مشفق مهربان پادری صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول بعد ما وجب ۔ یہ وقت کیا مبارک ہے کہ میں آپ کی اس مقدس جنگ کیلئے تیار ہو کر جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے۔ اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کیلئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے۔ جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے! تو میری روح اسی وقت بول اُٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔ وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرف کھینچ لائے گا۔ لیکن اس کے نکلنے کیلئے کوئی تقریب چاہیے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوں کو مقابلہ کیلئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے۔ مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے، نہ کسی رہے ۔ اور اور سے ۔ آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بعید ہو گا کہ آپ عوام سے اُلجھتے پھریں۔ اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوں کے مقابلہ کیلئے دین ابرس کا پیاسا ہے اور کئی ہزار خط اُردو و انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اور پھر جب کچھ جواب نہ آیا تو آخر نا امید ہو کر بیٹھ گیا ۔ چنانچہ بطور نمونہ ان خطوں میں سے کچھ روانہ بھی کرتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی اس توجہ کا اول مستحق میں ہی ہوں ۔ اور سوائے اس کے اگر میں کا ذب ہوں تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں ۔ میں پورے دس سال سے میدان میں کھڑا ہوں ۔ جنڈیالہ میں میری دانست میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصور کیا جاوے۔ اس لئے بادب مکلف ہوں کہ اگر یہ امر مطلوب ہے کہ روز