مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 154

لذت یابی اور تنعم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے۔۱؎ ooo۲؎ o o۳؎ o۴؎ اب جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حقّہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طو رپر نشان بیان کر چکا ہوں۔یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔اور سچے متبع ۱؎ المطففین: ۲۵ ۲؎ یونس: ۶۳ تا ۶۵ ۳؎ حٰمٓ السجدۃ: ۳۱ تا ۳۲ ۴؎ البقرۃ: ۱۸۷ ترجمہ: خبردار ہو یعنی یقینا سمجھ کہ جو لوگ اللہ جلشانہٗ کے دوست ہیں یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیونکر نجات ہوگی۔کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گزشتہ کے متعلق کوئی حزن و اندوہ انہیں ہوتا ہے، کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی خلافِ ایمان و خلاف فرمانبرداری جو باتیں ہیں اُن سے بہت دُور رہتے ہیں۔تیسری اُن کی یہ نشانی ہے کہ انہیں (بذریعہ مکالمہ الٰہیہ و رویائے صالحہ) بشارتیں ملتی رہتی ہیں، اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی۔خدا ئے تعالیٰ کاان کی نسبت یہ عہد ہے جو ٹل نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے۔یعنی مکالمہ الٰہیہ اورر ویائے صالحہ سے خدا تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطباتِ الٰہیہ سے مشرف ہوں (یہی قانونِ قدرت اللہ جلّشانہٗ کا ہے) کہ جو لوگ اربابِ متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جلّشانہٗ کو اپنا ربّ سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی ربّ ہے (یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں (کیسے ہی زلزلے آویں، آندھیاں چلیں، تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو۔پوری پوری استقامت پر رہیں) تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں (یعنی الہام اور رؤیائے صالحہ کے ذریعہ سے انہیں بشارتیں ملتی ہیں) کہ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متولّی اور متکفّل ہیں اور آخرت میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ