مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 145
ایمان نادانوں کا کھویا اور ایک جھوٹی راستبازی اور جھوٹی برکتوں کا وعدہ دیا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہیں اور نہ کچھ ثبوت۔آخر شرارتوں میں، مکروں میں، دنیا پرستیوں میں، نفسِ امّارہ کی پیروی میں اپنے سے بدتر ان کو کر دیا۔بالآخر یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اعجازات اور پیشگوئیوں کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وقوع میں آئیں قرآن شریف کی ایک ذرہ شہادت، انجیلوں کے ایک تودہ عظیم سے جو مسیح کے اعجاز وغیرہ کے بارے میں ہو، ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے۔کیوں بڑھ کر ہے اسی وجہ سے کہ خود باقرار تمام محقق پادریوں کے انجیلوں کا بیان خود حواریوں کا اپنا ہی کلام ہے اور پھر اپنا چشم دید بھی نہیں اور نہ کوئی سلسلہ راویوں کا پیش کیا ہے اور نہ کہیں ذاتی مشاہدہ کا دعویٰ کیا لیکن قرآن شریف میں اعجازات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ خاص خدائے صادق و قدوس کی پاک شہادت ہے۔اگر وہ صرف ایک ہی آیت ہوتی تب بھی کافی ہوتی۔مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِکہ ان شہادتوں سے سارا قرآن شریف بھرا ہوا ہے۔اب موازنہ کرنا چاہئے کہ کجا خدا تعالیٰ کی پاک شہادت جس میں کذب ممکن نہیں اور کجا نا دیدہ جھوٹ اور مبالغہ آمیز شہادتیں۔بہ نزدیک دانائے بیدار دل جَوے سیم بہتر ز صد تودہ گِل افترائی باتوں پر کیوں تعجب کرنا چاہئے۔ایسا بہت کچھ ہوا ہے اور ہوتا ہے۔عیسائیوں کو آپ اقرار ہے کہ ہم میں سے بہت لوگ ابتدائی زمانوں میں اپنی طرف سے کتابیں بنا کر اور بہت کچھ کمالات اپنے بزرگوں کے ان میں لکھ کر پھر خدا تعالیٰ کی طرف اُن کو منسوب کرتے رہے ہیں اور دعویٰ کر دیا جاتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کتابیں ہیں۔٭ پس جب کہ قدیم عادت عیسائیوں اور یہودیوں کی یہی جعلسازی چلی آئی ہے تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ متی وغیرہ انجیلوں کو اس ٭ جو کچھ انجیلوں میں ناجائز اور بے ثبوت مبالغہ معجزات حضرت مسیح کی نسبت یا ان کی ناواجب تعریفوں کے بارے میں پایا جاتا ہے۔اس کی تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کب اور کس وقت یہ باتیں انجیلوں میں ملائی گئی ہیں۔اگرچہ عیسائیوں کو اقرار ہے کہ خود انجیل نویسوں نے یہ باتیں اپنی طرف سے ملا دی ہیں مگر اس عاجز کی دانست میں یہ حاشئے آہستہ آہستہ چڑھے ہیں۔اور جعلساز مکار پیچھے سے بہت کچھ موقع پاتے رہے ہیں۔ہاں مستقل طور پر کئی جعلی کتابیں جو الہامی ہونے کے نام سے مشہور ہوگئیں حضرات مسیحیوں اور یہودیوں نے اوائل دنوں میں ہی تالیف کر کے شائع کر دی تھیں۔چنانچہ اسی جعلسازی کی برکت سے بجائے ایک انجیل کے بہت سی انجیلیں شائع ہو گئیں۔عیسائیوں کا خود یہ بیان ہے کہ مسیح کے بعد جعلی انجیلیں کئی تالیف