مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 139

سنیں اور دیکھیں اور ہدایت پاویں۔دوسری غلط فہمی جو معترض نے پیش کی ہے یعنی یہ کہ اصحاب کہف کی تعداد کی بابت قرآن شریف میں غلط بیان ہے۔یہ نرا دعویٰ ہے۔معترض نے اس بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ وہ بیان کیوں غلط ہے اور اس کے مقابل پر صحیح کونسا بیان ہے اور اس کی صحت پر کون سے دلائل ہیں تا اس کے دلائل پر غور کی جائے اور جواب شافی دیا جائے۔اگر معترض کو فرقانی بیان پر کچھ کلام تھا تو اس کی وجوہات پیش کرنی چاہئیں تھیں۔بغیر پیش کرنے وجوہات کے یونہی غلط ٹھہرانا متلاشی حق کا کام نہیں ہے۔تیسری غلط فہمی معترض کے دل میں یہ پیدا ہوئی ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ (جس کی سیر و سیاحت کا ذکر قرآن شریف میں ہے) سیر کرتا کرتا کسی ایسے مقام تک پہنچا جہاں اُسے سورج دلدل میں چھپتا نظر آیا۔اب عیسائی صاحب مجاز سے حقیقت کی طرف رُخ کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سورج اتنا بڑا ہو کر ایک چھوٹے سے دلدل میں کیونکر چھپ گیا۔یہ ایسی بات ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ انجیل میں مسیح کو خدا کا برّہ لکھا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔بّرہ تو وہ ہو سکتا ہے جس کے سر پر سینگ اور بدن پر پشم وغیرہ بھی ہو اور چارپایوں کی طرح سرنگون چلتا اور وہ چیزیں کھاتا ہو جو برّے کھایا کرتے ہیں؟ اے صاحب! آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ قرآن شریف نے واقعی طور پر سورج کے دلدل میں چھپنے کا دعوٰی کیا ہے۔قرآن شریف تو فقط بمنصب نقل خیال اس قدر فرماتا ہے کہ اس شخص کو اس کی نگاہ میں سورج دلدل میں چھپتا ہوا معلوم ہوا۔سو یہ تو ایک شخص کی رؤیت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسی جگہ پہنچا جس جگہ سورج کسی پہاڑ یا آبادی یا درختوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا نظر نہیں آتا تھا جیسا کہ عام دستور ہے۔بلکہ دلدل میں چھپتا ہوا معلوم دیتا تھا۔مطلب یہ کہ اُس جگہ کوئی آبادی یا درخت یا پہاڑ نزدیک نہ تھے بلکہ جہاں تک نظر وفا کرے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا نشان نظر نہیں آتا تھا۔فقط ایک دلدل تھا جس میں سورج چھپتا دکھائی دیتا تھا۔ان آیات کا سیاق سباق دیکھو کہ اس جگہ حکیمانہ تحقیق کا کچھ ذکر بھی ہے؟ فقط ایک شخص کی دُوردراز سیاحت کا ذکر ہے اور ان باتوں کے بیان کرنے سے اسی مطلب کا اثبات منظور ہے کہ وہ ایسے غیر آباد مقام پر پہنچا۔سو اس جگہ ہیئت کے مسائل لے بیٹھنا بالکل بے محل نہیں تو اور کیا ہے؟ مثلاً