مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 138
کہ کس نے میرا دامن چھوا ہے؟ اگر کچھ علم غیب سے حصہ ہوتا تو دامن چھونے والے کا پتہ معلوم کرنا تو کچھ بڑی بات نہ تھی۔ایک اور مرتبہ آ پ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ اس زمانہ کے لوگ گزر نہ جائیں گے جب تک یہ سب کچھ (یعنی مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اور ستاروں کا گرنا وغیرہ) واقع نہ ہووے۔لیکن ظاہر ہے کہ نہ اس زمانہ میں کوئی ستارہ آسمان کا زمین پر گرا اور نہ حضرت مسیح عدالت کیلئے دنیا میں آئے اور وہ صدی تو کیااس پر اٹھارہ صدیاں اور بھی گزر گئیں اور انیسویں گزرنے کو عنقریب ہے۔سو حضرت مسیح کے علم غیب سے بے بہرہ ہونے کے لئے یہی چند شہادتیں کافی ہیں جو کسی اور کتاب سے نہیں بلکہ چاروں انجیلوں سے دیکھ کر ہم نے لکھی ہیں۔دوسرے اسرائیلی نبیوں کا بھی یہی حال ہے۔حضرت یعقوب نبی ہی تھے مگر انہیں کچھ خبر نہ ہوئی کہ اُسی گاؤں کے بیابان میں میرے بیٹے پر کیا گزر رہا ہے۔حضرت دانیال اس مدت تک، کہ خدا نے بخت نصر کے رؤیا کی ان پر تعبیر کھول دی، کچھ بھی علم نہیں رکھتے تھے کہ خواب کیا ہے اور اس کی تعبیر کیا ہے؟ پس اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ نبی کا یہ کہنا کہ یہ بات خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں، بالکل سچ اور اپنے محل پر چسپاں اور سراسر اس نبی کا شرف اور اس کی عبودیت کا فخر ہے بلکہ ان باتوں سے اپنے آقائے کریم کے آگے اس کی شان بڑھتی ہے نہ یہ کہ اس کے منصب نبوت میں کچھ فتور لازم آتا ہے۔ہاں اگر یہ تحقیق منظور ہو کہ خدا تعالیٰ کے اعلام سے جو اسرار غیب حاصل ہوتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ہوئے ہیں تو میں ایک بڑا ثبوت اس بات کا پیش کرنے کیلئے تیار ہوں کہ جس قدر توریت و انجیل اور تمام بائیبل میں نبیوں کی پیشگوئیاں لکھی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں کَمًا وَ کیفًا ہزار حصہ سے بھی ان سے زیادہ ہیں جن کی تفصیل احادیث نبویہ کی رو سے جو بڑی تحقیق سے قلم بند کی گئی ہیں، معلوم ہوتی ہے اور اجمالی طور پر مگر کافی اور اطمینان بخش اور نہایت مؤثر بیان قرآن شریف میں موجود ہے۔پھر دیگر اہل مذاہب کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف قصہ ہی نہیں بلکہ وہ تو ہر صدی میں غیر قوموں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سب برکات اسلام میں ہمیشہ کے لئے موجود ہیں۔بھائیو! آؤ۔اوّل آزماؤ پھر قبول کرو۔مگر اُن آوازوں کو کوئی نہیں سنتا۔حجت الٰہی ان پر پوری ہے کہ ہم بلاتے ہیں وہ نہیں آتے اور ہم دکھاتے ہیں وہ نہیں دیکھتے۔انہوں نے آنکھوں اور کانوں کو بکلّی ہم سے پھیر لیا تا نہ ہو کہ وہ