مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 133

گزرے ہیں۔ایسے کہ ان کے وقت میں ان کی نظیر پائی نہیں گئی بلکہ بعض کی نسبت ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی کامل توجہ سے باذنہٖ تعالیٰ تازہ مُردوں سے باتیں کر کے دکھلا دیتے تھے٭ اور دو دو تین تین سَو بیماروں کو اپنے دائیں بائیں بٹھلا کر ایک ہی نظر سے تندرست کر دیتے تھے اور بعض جو مشق میں کچھ کمزورتھے وہ ہاتھ لگا کر یا کپڑے کو چُھو کر شفا بخشتے تھے۔اس مشق میں عامل عمل کے وقت کچھ ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا اس کے اندر سے بیمار پر اثر ڈالنے کے وقت ایک قوت نکلتی ہے اور بسا اوقات بیمار کو بھی یہ مشہود ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک زہر یلا مادہ حرکت کر کے سفلی اعضاء کی طرف اُترتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بکلّی منعدم ہو جاتا ہے۔اس علم میں اسلام میں بہت سی تالیفیں موجود ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ہندوؤں میں بھی اس کی کتابیں ہونگی۔حال میں جو انگریزوں نے فن مسمریزم نکالا ہے حقیقت میں وہ بھی اسی علم کی ایک شاخ ہے۔انجیل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو بھی کسی قدر اس علم میں مشق تھی مگر کامل نہیں تھے۔اس وقت کے لوگ سادہ اور اس علم سے بے خبر تھے۔اسی وجہ سے اس زمانہ میں یہ عمل اپنی حد سے زیادہ قابل تعریف سمجھا گیا تھا۔مگر پیچھے سے جوں جوں اس علم کی حقیقت کھلتی گئی لوگ اپنے عَلُوِّ اعتقاد سے تنزّلکرتے گئے۔یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی مشقوں سے بیماروں کو چنگا کرنایامجنونوں کو شفا بخشنا کچھ بھی کمال کی بات نہیں بلکہ اس میں ایماندار ہونا بھی ضرور نہیں۔چہ جائیکہ نبوت یا ولایت پر یہ دلیل ہو سکے۔ان کا یہ بھی قول ہے کہ عمل سلب امراض بدنیہ کی کامل مشق اور اُسی شغل میں دن رات اپنے تئیں ڈالے رکھنا روحانی ترقی کیلئے سخت مضر ہے اور ایسے شخص کے ہاتھ سے روحانی تربیت کا کام بہت ہی کم ہوتا ہے اور قوتِ منوّرہ اُس کے قلب کی بغایت درجہ گھٹ جاتی ہے۔خیال ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی روحانی تربیت میں بہت کمزور نکلے جیسا کہ پادری ٹیلر صاحب جو باعتبار عہدہ و نیز بوجہ لیاقت ذاتی کے ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتے ہیں۔وہ نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ مسیح کی روحانی تربیت بہت ضعیف اور کمزور ثابت ہوتی ہے اور اُن کے صحبت یافتہ لوگ جو حواریوں کے نام سے موسوم تھے اپنے روحانی تربیت یافتہ ہونے میں اور انسانی قوتوں کی ٭ تازہ مردوں کا عمل توجہ سے چند منٹ یا چند گھنٹوں کیلئے زندہ ہو جانا قانون قدرت کے منافی نہیں۔جس حالت میں ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ بعض جاندار مرنے کے بعد کسی دوا سے زندہ ہو جاتے ہیں تو پھر انسان کا زندہ ہونا کیا مشکل اور کیوں دُور از قیاس ہے۔