مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 132

جواب دیتا ہے اور بعض اسرارِ غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے۔یہ بھی ایسا نشان ہے کہ جو قیامت تک اُمت محمدیہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود اور متحقق الوجود ہے۔مسلمانوں میں سے اب بھی ایسے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جلّشانہٗ اپنی تائیداتِ خاصہ سے مؤیَّد فرما کر الہاماتِ صحیحہ و صادقہ و مبشرات و مکاشفاتِ غیبیہ سے سرفراز فرماتا ہے۔اب اے حق کے طالبو اور سچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو! انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانہ کیلئے مشہود و محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی نہیں، صرف قصے ہیں۔خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔بالخصوص حضرت مسیح کے معجزات جو انجیلوں میں لکھے ہیں باوجود قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہونے کے اور باوجود بہت سے مبالغات کے جو اُن میں پائے جاتے ہیں۔ایسے شکوک و شبہات ان پر وارد ہوتے ہیں کہ جن سے انہیں بکلّی صاف و پاک کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے۔اور اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ جو کچھ اناجیل مروجہ میں حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ لولے اور لنگڑے اور مفلوج اور اندھے وغیرہ بیمار ان کے چھونے سے اچھے ہو جاتے تھے، یہ تمام بیان بلامبالغہ ہے اور ظاہر پر ہی محمول ہے کوئی اور معنی اس کے نہیں۔تب بھی حضرت مسیح کی ان باتوں سے کوئی بڑی خوبی ثابت نہیں ہوتی۔اوّل تو انہیں دنوں میں ایک تالاب بھی ایسا تھا کہ اس میں ایک وقت صاف میں غوطہ مارنے سے ایسی سب مرضیں فی الفوردور ہو جاتی تھیں۔جیسا کہ خود انجیل میں مذکور ہے۔پھر ماسوائے اس کے زمانہ دراز کی تحقیقاتوں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ملکہ سلبِ امراض منجملہ علوم کے ایک علم ہے جس کے اب بھی بہت لوگ ّمشاق پائے جاتے ہیں۔جس میں شدت توجہ اور دماغی طاقتوں کے خرچ کرنے اور جذبِ خیال کا اثر ڈالنے کی مشق درکار ہے۔سو اس علم کو نبوت سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ مردِ صالح ہو نا بھی اس کے لئے ضروری نہیں اور قدیم سے یہ علم رائج ہوتا چلا آیا ہے۔مسلمانوں میں بعض اکابر جیسے محی الدین عربی صاحب فصوص اور بعض نقشبندیوں کے اکابر اس کام میں مشاق