مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 115
مکتوبات احمد ۱۱۵ جلد اول کرنے والا نہیں پاؤ گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نبوت یا قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے کی نسبت کچھ شک تھا بلکہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ جس قدر یقین کامل و بصیرت کامل و معرفت اکمل کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات بابرکات کی نسبت دعوی کیا ہے اور پھر اُس کا ثبوت دیا ہے ایسا کامل ثبوت کسی دوسری موجودہ کتاب میں ہرگز نہیں پایا جاتا ۔ فَهَلْ مَنْ يَسْمَعُ فَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَكُونُ مِنَ المُسْلِمِينَ الْمُخْلِصِينَ ۔ واضح رہے کہ انجیلوں میں حضرت مسیح کے بعض اقوال ایسے بیان کئے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی نبوت اور اپنے موید من اللہ ہونے کی نسبت کچھ شبہات میں پڑ گئے تھے جیسا کہ یہ کلمہ کہ گویا آخری دم کا کلمہ تھا یعنی ایلی ایلی لما سبقتنی ! جس کے معنی یہ ہیں کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ عین دنیا سے رخصت ہونے کے وقت میں کہ جو اہل اللہ کے یقین اور ایمان کے انوار ظاہر ہونے کا وقت ہوتا ہے آنجناب کے منہ سے نکل گیا۔ پھر آپ کا یہ بھی طریق تھا کہ دشمنوں کے بدارادہ کا احساس کر کے اُس جگہ سے بھاگ جایا کرتے تھے حالانکہ خدا تعالیٰ سے محفوظ رہنے کا وعدہ پاچکے تھے۔ ان دونوں امور سے شک اور تحیر ظاہر ہے۔ پھر آپ کا تمام رات رو رو کر ایسے امر کے لئے جس کا انجام بد آپ کو پہلے سے معلوم تھا بجز اس کے کیا معنی رکھتا ہے کہ ہر ایک بات میں آپ کو شک ہی شک تھا۔ یہ باتیں صرف عیسائیوں کے اس اعتراض اٹھانے کی غرض سے لکھی گئی ہیں ورنہ ان سوالات کا جواب ہم تو احسن طریق سے دیکھتے ہیں اور اپنے پیارے مسیح کے سر سے جو بشری ناتوانیوں اور ضعفوں سے مستثنیٰ نہیں تھے ان تمام الزامات کو صرف ایک نفی الوہیت وابہنیت سے ایک طرفہ العین میں اُٹھا سکتے ہیں مگر ہمارے عیسائی بھائیوں کو بہت دقت پیش آئے گی ۔ ☆ سوال نمبر ۲: اگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لا چار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم یعنی مجھ کو معلوم نہیں اور اصحاب کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نو کروڑ حصہ بڑا ہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے؟ یہ شبہات چاروں انجیلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ خاص کر انجیل متی تو اول درجہ کی شبہ اندازی میں ہے متی بات ۲۷ آیت ۴۶