مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 114

دیکھو خروج آیت (۱۷) سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہی طرز قرآن شریف کی ہے۔توریت اور قرآن شریف میں اکثر احکام اسی شکل سے واقعہ ہیں کہ گویا مخاطب اُن کے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر دراصل وہ خطاب قوم اور اُمت کے لوگوں کی طرف ہوتا ہے لیکن جس کو ان کتابوں کی طرز تحریر معلوم نہیں وہ اپنی بے خبری سے یہی خیال کر لیتا ہے کہ گویا وہ خطاب و عتاب نبی منزل علیہ کو ہو رہا ہے مگر غور اور قرائن پر نظر ڈالنے سے اُس پر کھل جاتا ہے کہ یہ سراسر غلطی ہے۔پھر یہ اعتراض اُن آیات پر نظر ڈالنے سے بھی بکلّی مستاصل ہوتا ہے جن میں اللہ جلشانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین کامل کی تعریف کی ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ فرماتا ہے ۱؎ یعنی کہ مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے ربّ کی طرف سے ملی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے۲؎ یعنی کہ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کاملہ کے ساتھ بُلاتا ہوں اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۳؎ یعنی خدا نے تجھ پر کتاب اُتاری اور حکمت یعنی دلائل حقیت کتاب و حقیت رسالہ تجھ پر ظاہر کئے اور تجھے وہ علوم سکھائے جنہیں تو خود بخود جان نہیں سکتا تھا اور تجھ پر اُس کا ایک عظیم فضل ہے۔پھر سورہ نجم میں فرماتا ہے۔۴؎ -۵؎ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے جو اپنی صداقت کے آسمانی نشان دیکھے تو اُس کی کچھ تکذیب نہ کی یعنی شک نہیں کیا اور آنکھ چپ ور است کی طرف نہیں پھیری اور نہ حد سے آگے بڑھی یعنی حق پر ٹھہر گئی اور اِس نے اپنے خدا کے وہ نشان دیکھے جو نہایت بزرگ تھے۔اب اے ناظرین! ذرا انصافاً دیکھو۔اے حق پسندو! ذرا منصفانہ نگہ سے غور کرو کہ خدائے تعالیٰ کیسے صاف صاف طور پر بشارت دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بصیرتِ کاملہ کے ساتھ اپنی نبوت پر یقین تھا اور عظیم الشان نشان ان کو دکھلائے گئے تھے۔اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں ایک نقطہ یا ایک شعشہ اس بات پر دلالت ۱؎ الانعام: ۵۸ ۲؎ یوسف: ۱۰۹ ۳؎ النّسآء: ۱۱۴ ۴؎ النجم: ۱۲ ۵؎ النجم: ۱۸،۱۹