مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 113

یعنی خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا مت ٹھہرا اگر تو نے ایسا کیا تو مذموم اور مخذول ہو کر بیٹھے گا۔اور تیرے خدا نے یہی چاہا ہے کہ تم اسی کی بندگی کرو۔اُس کے سوا کوئی اور دوسرا تمہارا معبود نہ ہو اور ماں باپ سے احسان کر اگر وہ دونو یا ایک اُن میں سے تیرے سامنے بڑی عمر تک پہنچ جائیں تو تُو اُن کو اُف نہ کر اور نہ اُن کو جھڑک بلکہ اُن سے ایسی باتیں کر کہ جن میں اُن کی بزرگی اور عظمت پائی جائے اور تذلل اور رحمت سے ان کے سامنے اپنا بازو جھکا اور دُعا کر کہ اے میرے رَبّ! تو ان پر رحم کر جیسا اُنہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔اب دیکھو کہ ان آیات میں یہ ہدایت ظاہر ہے کہ یہ واحد کا خطاب جماعت اُمت کی طرف ہے جن کو بعض دفعہ انہیں آیتوں میں تم کر کے بھی پکارا گیا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات میں مخاطب نہیں کیونکہ ان آیتوں میں والدین کی تعظیم و تکریم اور اُن کی نسبت بِرّو احسان کا حکم ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین تو صغیر سنی کے زمانے میں بلکہ جناب ممدوح کی شیر خوارگی کے وقت میں ہی فوت ہوچکے تھے۔سو اس جگہ سے اور نیز ایسے اور مقامات سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کو واحد کے طور پر مخاطب کر کے پکارنا یہ قرآن شریف کا ایک عام محاورہ ہے کہ جو ابتدا سے آخر تک جا بجا ثابت ہوتا چلا جاتا ہے۔یہی محاورہ توریت کے احکام میں بھی پایا جاتا ہے کہ واحد مخاطب کے لفظ سے حکم صادر کیا جاتا ہے اور مراد بنی اسرائیل کی جماعت ہوتی ہے جیسا کہ خروج باب ۳۳ ، ۳۴ میں بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔(۱۱) آج کے دن میں جو حکم تجھے کرتا ہوں تو اُسے یاد رکھیو۔(۱۲) ہوشیار رہ تا نہ ہووے کہ اُس زمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باندھے۔(۱۷) تو اپنے لئے ڈہائے ہوئے معبودوں کو مت بنائیو۔اب ان آیات کا سیاق سباق دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اگرچہ ان آیات میں حضرت موسیٰ مخاطب کئے گئے تھے مگر دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اِن احکام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ کنعان میں گئے اور نہ بت پرستی جیسا بُرا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مردِ خدا بت شکن سے ہو سکتا تھا جس سے ان کو منع کیا جاتا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام وہ مقربُ اللہ ہے جس کی شان میں اسی باب میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میری نظر میں منظور ہے اور میں تجھ کو بنام پہچانتا ہوں