مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 112

خوب جانتے ہیں کہ وہ منجانب اللہ ہے سواے پڑھنے والے! تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔اب اِن آیات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اس آیت کے جو َّ ہے ایسے لوگ ہیں جو ہنوز یقین اور ایمان اور علم سے کم حصہ رکھتے ہیں بلکہ اوپر کی آیتوں سے یہ بھی کھلتا ہے کہ اِس جگہ یہ حکم َّ کا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ شروع کی آیت میں جس سے یہ آیت تعلق رکھتی ہے آنحضرت ﷺکا ہی قول ہے یعنی یہ کہسو اِن تمام آیات کا بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ میں بجز خدا تعالیٰ کے کوئی اور حَکَم جو مجھ میں اور تم میں فیصلہ کرے مقرر نہیں کر سکتا وہ وہی ہے جس نے تم پر مفصل کتاب نازل کی سو جن کو اس کتاب کا علم دیا گیا ہے وہ اس کا منجانب اللہ ہونا خوب جانتے ہیں سو تو (اے بے خبر آدمی) شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔اب تحقیق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود شک نہیں کرتے بلکہ شک کرنے والوں کو بحوالہ شواہد و دلائل منع فرماتے ہیں۔پس باوجود ایسے کھلے کھلے بیان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شک فی الرسالت کو منسوب کر نا بے خبری و بے علمی یا محض تعصب نہیں تو کیا ہے۔پھر اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ اگر شک کرنے سے بعض ایسے نَومسلم یا متردّد منع کئے گئے تھے جو ضعیف الایمان تھے تو اُن کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ تم شک مت کرو نہ یہ کہ تو شک مت کر کیونکہ ضعیف الایمان آدمی صرف ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی ہوتے ہیں بجائے جمع کے واحد مخاطب کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وحدت سے وحدت جنسی مراد ہے جو جماعت کا حکم رکھتی ہے اگر تم اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو پڑھو تو یہ عام محاورہ اُس میں پاؤ گے کہ وہ اکثر مقامات میں جماعت کو فرد واحد کی صورت میں مخاطب کرتا ہے مثلاً نمونہ کے طور پر اِن آیات کو دیکھو۔۔ َ O۱؎ ۱؎ بنی اسرآء یل: ۲۳ تا ۲۵