مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 111
مکتوبات احمد جلد اول ☆ اسایت کا سیاق سباق یعنی اگلی پچھلی آیتوں کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ نبوت اور قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں ۔ صرف اس بات کا بیان ہے کہ اب بیت المقدس کی طرف نہیں بلکہ بیت کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنی چاہیے ۔ سو اللہ جل شانہ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ ہی حق بات ہے یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہی نماز پڑھنا حق ہے جو ابتدا سے مقرر ہو چکا ہے اور پہلی کتابوں میں بطور پیشگوئی اس کا بیان بھی ہے سو تو (اے پڑھنے والے اس کتاب کے ) اس بارے میں شک کرنے والوں سے مت ہو۔ پھر اس آیت کے آگے بھی اسی مضمون کے متعلق آیتیں ہیں چنانچہ فرماتا ہے وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ یعنی ہر ایک طرف سے جو تو نکلے تو خانہ کعبہ کی ہی طرف نماز پڑھ۔ یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے۔ غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام آیات خانہ کعبہ کے بارے میں ہیں نہ کسی اور تذکرہ کے متعلق اور چونکہ یہ حکم جو خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کے لئے صادر ہوا ایک عام حکم ہے جس میں سب مسلمان داخل ہیں لہذا بوجہ ابوجه عموم منشاء حكم بعض و وسو سے والی طبیعتوں کا وسوسہ دور کرنے کے لئے ان آیات میں اُن کو تسلی دی گئی کہ اس بات سے متردد نہ ہوں کہ پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے پڑھتے اب اُس کی طرف سے ہٹ کر خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا کیوں شروع کر دیا۔ سو فر مایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی مقرر شدہ بات ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے پہلے نبیوں کے ذریعے ذریعے سے پہلے ہی سے بتلا رکھا تھا اس میں شک مت کرو۔ دوسری آیت میں جو معترض نے بتائید دعوی خود تحریر کی ہے وہ سورہ انعام کی ایک آیت ہے جو معہ اپنی آیات متعلقہ کے اس طرح پر ہے اَفَغَيْرَ اللهِ ابْتَغِى حَكَمًا وَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَبَ مُفَصَّلًا وَالَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزِّلُ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِین کے یعنی کیا بجز خدا کے میں کوئی اور حکم طلب کروں اور وہ وہی ہے جس نے مفصل کتاب تم پر اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو ہم نے علم قرآن سمجھایا ہے وہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلی کتابوں میں اور نیز انجیل میں بھی تحویل کعبہ کے بارے میں بطور پیش پیشگوئی اشارات ہو چکے ہیں۔ دیکھو یوحنا ۴ ۲۲ تا ۲۴ یسوع نے اسے کہا کہ اے عورت میری بات کو یقین رکھ وہ گھڑی آتی ہے کہ جس میں تم نہ اس پہاڑ پر اور نہ یروشلم میں باپ کی پرستش کرو گے۔ ۔ البقرة : ۱۵۰ الانعام: ۱۱۵