مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 105

تین ماہ کی تنخواہ بطور پیشگی ہمارے پاس گوجرانوالہ میں بھیجا جاوے اور نیز مکان وغیرہ کا انتظام اس عاجز کے ذمہ رہے اور اگر کسی نوع کی دقت پیش آوے تو فوراً آپ گوجرانوالہ میں واپس آ جاویں گے اور جو روپیہ آپ کو مل چکا ہو اس کو واپس لینے کا استحقاق اس عاجز کو نہیں رہے گا۔یہ پہلی شرط ہے جو آپ نے تحریر فرمائی ہے لیکن گزارش خدمت کیا جاتا ہے کہ روپیہ کسی حالت میں قبل از انفصال اس امر کے جس کے لئے بحالت مغلوب ہونے کے روپیہ دینے کا اقرار ہے، آپ کو نہیں مل سکتا۔ہاں البتہ یہ روپیہ آپ کی تسلّی اور اطمینان قلبی کیلئے کسی بنک سرکاری میں جمع ہو سکتا ہے یا کسی مہاجن کے پاس رکھا جا سکتا ہے۔غرض جس طرح چاہیں روپیہ کی بابت ہم آپ کی تسلّی کرا سکتے ہیں لیکن آپ کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے اور یہ بات سچ اور قریب انصاف بھی ہے کہ جب تک فریقین میں جو امر متنازعہ فیہ ہے وہ تصفیہ نہ پا جائے تب تک روپیہ کسی ثالث کے ہاتھ میں رہنا چاہئے۔امید ہے کہ آپ جو طالب حق ہیں اس بات کو سمجھ جائیںگے اور اس کے برخلاف اصرار نہیں کریں گے۔اور جو اسی شرط کے دوسرے حصہ میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ اگر مکان وغیرہ کے بارے میں کسی نوع کی ہم کو دقت پہنچی تو ہم فوراً گوجرانوالہ میں آویں گے اور جو روپیہ جمع کرایا گیا ہے وہ ہمارا ہو جائے گا۔یہ شرط آپ کی بھی ایسی وسیع التاویل ہے کہ ایک بہانہ جُو آدمی کو اس سے بہت کچھ گنجائش مل سکتی ہے کیونکہ مکان بلکہ ہر یک چیز میں نکتہ چینی کرنا بہت آسان ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس جگہ کی آب وہوا ہم کو مخالف ہے، ہم بیمار ہوگئے، مکان میں بہت گرمی ہے، فلاں چیز ہم کو وقت پر نہیں ملتی، فلاں فلاں ضروری چیزوں سے مکان خالی ہے وغیرہ وغیرہ۔اب ایسی ایسی نکتہ چینیوں کا کہاں تک تدارک کیا جائے گا۔سو اس بات کا انتظام اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ ایک دو دن کیلئے خود قادیان میں آکر مکان کو دیکھ بھال لیں اور اپنی ضروریات کا بالمواجہ تذکرہ اور تصفیہ کر لیں تا جہاں تک مجھ سے بن پڑے آپ کی خواہشوں کے پورا کرنے کیلئے کوشش کروں اور پھر بعد میں نکتہ چینی کی گنجائش نہ رہے۔ماسوا اس کے یہ عاجز تو اس بات کا ہرگز دعویٰ نہیں کرتا کہ کسی کو اپنے مکان میں فروکش کر کے جو کچھ نفسِ امّارہ اُس کا اسباب عیش و تنعُّم مانگتا جائے وہ سب اس کے لئے مہیا کرتا جاؤں گا بلکہ اس خاکسار کا یہ عہد و اقرار ہے کہ جو صاحب اس عاجز کے پاس آئیں ان کو اپنے مکانات میں سے اچھا مکان اور اپنی خوراک کے موافق خوراک دی جائے گی اور جس طرح