مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 103
نے خدا بنایا ہوا ہے پھر دنیا میں اپنا درشن کرا جاتے۔تا خود ان لوگوں کا انصاف دلی ان کو ملزم کرتا کہ کیا ان آدم زادوں کو خدا خدا کر کے پکارنا چاہئے؟ اور تعجب تو یہ ہے کہ باوجود ان تمام رُسوائیوں کے جو آپ لوگوں کے عقائد میں پائی جاتی ہیں پھر آپ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے عقائد عقل کے موافق ہیں۔میں حیران ہوں کہ جن لوگوں کے یہ عقائد ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنا قدیمی اور غیرمتغیر جلال چھوڑ کر ایک عورت کے پیٹ میں حلول کیا اور ناپاک راہ سے تولد پایا اور دکھ اور تکلیف اُٹھاتا رہا اور مصلوب ہو کر مر گیا اور پھر یہ کہ وہ تین بھی ہے اور ایک بھی۔اور انسان کامل بھی ہے اور خدائے کامل بھی۔وہ ایسے عقائد کو کیونکر عقل کے مطابق کر سکتے ہیں اور ایسی نئی فلسفی ۱؎ کونسی ہے۔جس کے ذریعے سے یہ لغویات معقول ٹھہر سکتی ہیں۔پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آپ لوگ معقول طور پر اپنے خوش عقیدہ کی سچائی ثابت نہیں کر سکتے تو پھر لاچار ہو کر نقل کی طرف بھاگتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں ہم نے پہلی کتابوں میں یعنی بائیبل میں دیکھی ہیں۔اسی وجہ سے ہم ان کو مانتے ہیں۔لیکن یہ جواب بھی سراسر پوچ اور بے معنی ہے کیونکہ ان کتابوں میں ہرگز یہ بات درج نہیں ہے کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے یا خود ربُّ العٰلمین ہیں اور دوسرے لوگ خدا کے بندے ہیں بلکہ بائیبل پر غور کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا کر کے کسی کو پکارنا یہ ان کتابوں کا عام محاورہ ہے بلکہ بعض جگہ خدا کی بیٹیاں بھی لکھی ہیں اور ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ تم سب خدا ہو۔تو پھر اس حالت میں حضرت مسیح کی کیا خصوصیت رہی؟ ماسوا اس کے ہر ایک عاقل جانتا ہے کہ منقولات اور اخبار میں صدق اور کذب اور تغیر اور تبدل کا احتمال ہے۔خصوصاً جو جو صدمات عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کو پہنچے ہیں اور جن جن خیانتوں اور تحریفوں کاانہوں نے آپ اقرار کر لیاہے۔ان وجوہ سے یہ احتمال زیادہ تر قوی ہوتا جاتا ہے۔اور یہ بھی آپ کو سوچنا چاہئے کہ اگر ہر ایک تحریر بغیر ثبوت باضابطہ کے قابل اعتبار ٹھہر سکتی ہے تو پھر آپ لوگ ان قصوں کو کیوں معتبر نہیں سمجھتے کہ جو ہندوؤں کے پستکوں میں رام چندر اور کرشن اور برہما اور بشن وغیرہ کے معجزات کی نسبت اور ان کے بڑے بڑے کاموں کے بارہ میں اب تک لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں۔جیسے مہادیو کی لٹوں سے گنگا کا نکلنا اور مہادیو کا پہاڑ کو اُٹھالینا اور ایسا ہی ارجن کے بھائی راجہ بھیم کے مقابل پر مہادیو کا کشتی کیلئے آنا۔۱؎ یہاں مراد فلاسفی ہے۔ناشر