مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 102
مکتوبات احمد ۱۰۲ جلد اول گوجرانوالہ میں متعین ہوا۔ اور اسے اپنے علم الہیات پر بڑا ناز تھا اس نے اسی سستی شہرت کے لئے حضرت اقدس کو اس دعوت کے قبول کرنے کے لئے مشروط خط لکھا ۔ حضرت اقدس کا جواب اور سوفٹ کی خاموشی اور اس کا جواب حضرت اقدس نے جو دیا میں ذیل میں درج کر دیتا ہوں ۔ اس جواب کے بعد پادری صاحب خاموش ہو گئے اور اس طرح عیسائی قوم پر بھی اتمام حجت ہو گئی ۔ مکتوب نمبرا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بعد ما وجب ۔ آپ کا عنایت نامہ جس پر کوئی تاریخ درج نہیں ، بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا ۔ آپ نے پہلے تو بے تعلق اپنے خط میں قصہ چھیڑ دیا ہے کہ حقیقت میں خدائے قادر مطلق خالق و مالک ارض و سما مسیح ہے اور وہی نجات دہندہ ہے لیکن میں سوچ میں ہوں کہ آپ صاحبوں کی طبیعت کیونکر گوارا کر لیتی ہے کہ ایک آدم زاد ، خا کی نہاد ، عاجز بندہ کی نسبت آپ لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہی ہمارا پیدا کنندہ اور رب العلمین ہے یہ خیال آپ کا حضرت مسیح کی نسبت ایسا ہی ہے جیسے ہندو لوگ راجہ رام چندر کی نسبت رکھتے ہیں ۔ صرف اتنا فرق ہے کہ ہندو لوگ کشلیا کے بیٹے کو اپنا پر میشر بنا رہے ہیں اور آپ حضرت مریم صدیقہ کے صاحبزادہ کو ۔ نہ ہندوؤں نے کبھی یہ ثابت کر دکھایا کہ زمین و آسمان میں سے کوئی ٹکڑا کسی مخلوق کا رام چندر یا کرشن نے پیدا کیا ہے اور نہ آج تک آپ لوگوں نے حضرت مسیح کی نسبت کچھ ایسا ثبوت دیا ۔ افسوس کہ جو قوتیں عقل اور ادراک اور فہم و قیاس کی آپ صاحبوں کی فطرت کو عطا کی گئیں تھیں آپ لوگوں نے ایک ذرا ان کا قدر نہیں کیا اور علوم طبعی اور فلسفی کو پڑھ پڑھا کر ڈ بود یا اور عقلی علوم کی روشنی آپ لوگوں کے دل پر ایک ذرہ نہ پڑی۔ سادگی اور نا سمجھی کے زمانہ اس میں جو کچھ گھڑا گیا انہیں باتوں کو آپ لوگوں نے اب تک اپنا دستور العمل بنا رکھا ہے ۔ کاش !! زمانہ میں دو چار دن ۔ دو چار دن کیلئے حضرت مسیح اور راجہ رام چندر اور کرشن و بدھ وغیرہ کہ جن کو مخلوق پرستوں