مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 92

اب میں آپ کے بعض خیالات کی غلطی کو رفع کرتا ہوں۔قول آں عزیز۔خدا نے کافر اور مومن کو اس دنیا میں یکساں حصہ بخشا ہے۔اقول۔چونکہ خدا نے ہر ایک کو اپنی طرف بلایا ہے اس لئے سب کو ایسی قوتیں بخشی ہیں کہ اگر وہ ان قوتوں کو ٹھیک طور پر استعمال کریں تو منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں۔مگر تجربہ سے ثابت ہے کہ بجز اس کے کوئی اسلام پر قدم مارے ہر ایک شخص ان قوتوں کو بے اعتدالی سے استعمال میں لاتا ہے اور منزلِ مقصود تک نہیں پہنچتا۔قول آں عزیز۔بہت مشکل ہے کہ تمام لوگ ایک ہی مذہب پر چلیں۔اقول۔سچے طالب کے لئے ہر ایک مشکل سہل کی جاتی ہے۔قول آں عزیز۔اگرچہ ریل پر چلنے والے بہت آرام پاتے ہیں لیکن اگر کوئی پیادہ پا سفر اختیار کرے تو ریل والے اس کو کافر نہیں کہتے۔اقول۔یہ قول دینی معاملہ پر چسپاں نہیں ہے اور قیاس مع الفارق ہے۔خدا کے ملنے کی ایک خاص راہ ہے یعنی معجزات اور نشانوں سے یقین حاصل ہونا۔اسی پر تزکیہ نفس موقوف ہے اور یقین کے اسباب بجز اسلام کے کسی مذہب میں نہیں۔قول آں عزیز۔خدا بے انت ہے۔سو ہم بے انت کو اُسی وقت محسوس کر سکتے ہیں جب پابندیٔ شرع سے باہر ہو جائیں۔اقول۔شرع عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں راہ۔یعنی خدا کے پانے کی راہ۔پس آپ کے کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب ہم خدا کے پانے کی راہ چھوڑ دیں تب ہمیں خدا ملے گا۔اب آپ خود سوچ لیں کہ یہ کیسا مقولہ ہے۔قول آں عزیز۔ذات پات نہ پوچھے کو۔ہَر کو بھجے سو ہَرکا ہو۔اقول۔یہ سچ بات ہے۔اس سے اسلام بحث نہیں کرتا کہ کس قوم اور کس ذات کا آدمی ہے۔جو شخص راہِ راست طلب کرے گا خواہ وہ کسی قوم کا ہو خدا اُسے ملے گا۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ خواہ کسی مذہب کا پابند ہو خدا کو مل سکتا ہے۔کیونکہ جب تک پاک مذہب اختیار نہیں کرے گا تب تک خدا ہرگز نہیں پائے گا۔مذہب اَور چیز ہے اَور قوم اور چیز۔