مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 91
کروں گا۔پس اُس نے میری نسبت یہ پیشگوئی کی کہ یہ شخص تین برس تک ہیضہ کی بیماری سے مر جائے گا۔اور میرے خدا نے یہ ظاہر کیا کہ چھ برس تک لیکھرام بذریعہ قتل نابود ہو جائے گا کیونکہ وہ خدا کے پاک نبی کی بے ادبی میں حد سے گزر گیا۔اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اس کے مرنے کے تھوڑی مدت کے بعد پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی۔تمام پیشگوئی میں نے اپنی کتابوں میں بار بار شائع کر دی اور یہ بھی شائع کر دیا کہ وید درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اَب آریہ سماج والوں کو چاہئے کہ لیکھرام کی نسبت اپنے پرمیشور سے بہت دعا کریں تا وہ اُس کو بچا لے کیونکہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کا پرمیشور اِن کو بچا نہیں سکے گا اور ایسا ہی لیکھرام نے بھی میری نسبت اپنی کتاب میں شائع کر دیا کہ یہ شخص تین برس میں ہیضہ کی بیماری سے فوت ہو جائے گا۔آخر لیکھرام اپنے قتل ہونے پر گواہی دے گیا کہ وید خدا کی طرف سے نہیں ہے۔اسی طرح نہ ایک نشان بلکہ ہزار ہا نشان ظاہر ہوئے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہیں۔جن سے روز روشن کی طرح کھل گیا کہ دین اسلام ہی دنیا میں سچا مذہب ہے اور سب انسانوںکے اختراع ہیں اور یا کسی وقت سچے تھے اور بعد میں وہ کتابیں بگڑ گئیں۔اے عزیز! ہم آپ کی باتوں کو کہ جو کوئی روشن دلیل ساتھ نہیں رکھتیں کیونکر مان لیں۔آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف دعویٰ ہے جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔دنیا میں ایک ادنیٰ مقدمہ بھی جب کسی عدالت میں پیش ہوتا ہے تو ثبوت کے سوائے کسی حاکم کے نزدیک قابل سماعت نہیں ہوتا اور ایسا مدعی ڈگری حاصل نہیں کر سکتا تو پھر نہ معلوم آپ ان خیالات پر کیونکر بھروسہ رکھتے ہیں جو بے ثبوت ہیں۔خدا ایک ہے اور اس کی مرضی ایک ہے پھر وہ کیونکر متناقض امور کا مصداق ہو سکتا ہے اور کیونکر ہم ان سب باتوں کو سچی مان سکتے ہیں کہ عیسیٰ خدا ہے اور رام چندر خدا ہے اور کرشن خدا ہے اور یا کہ خدا ایسا عاجز ہے کہ ایک ذرّہ بھی اُس نے پیدا نہیں کیا۔وہ مذہب قبولیت کے لائق ہے جو ثبوت کا روشن چراغ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ اسلام ہے۔اگر آپ یہ کہیں کہ جو زبردست نشان اور معجزات اسلام میں ظاہر ہوتے ہیں وہ کسی دوسرے مذہب میں بھی ہوتے ہیں تو ہم آپ کی اس بات کو بشوق سنیں گے۔بشرطیکہ آپ اس بات کا ثبوت دیں۔مگر یاد رکھیں کہ یہ آپ کے لئے ہرگز ممکن نہیں ہوگا کہ اس زمانہ میں کوئی ایسا زندہ شخص بھی دکھلا سکیں کہ وہ برکات اور آسمانی نشان جو مجھے ملے ہیں ان میں وہ مقابلہ کر کے دکھلاوے۔