مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xi of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page xi

11 سردار امام بخش صا ۔ صاحب مرحوم جو بہت ہی مخلص احمدی تھے ایک دفعہ فرمانے لگے ۔ پرانے صوفیا کے طرز پر ہر ایک بزرگ کا کوئی معشوق ظاہری بھی ہوتا ہے اور اگر یہ بات درست ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معشوق مفتی محمد صادق صاحب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اکثر جب حضرت صاحب آتے ہیں تو سب سے پہلے یہی کہتے ہیں کہ : " مفتی صاحب کہاں ہیں۔ اس کی وجہ تھی کہ حضور مجھے روزانہ ڈاک دیتے اور اس کے متعلق ہدایات فرماتے ۔ اس طرح سب سے اوّل مجھے حضور سے باتیں کرنے کا موقع ملتا تھا۔ ان ایام میں عموماً اوسط ڈاک ہیں خط روزانہ ہوتے تھے لیکن جن ایام میں کوئی پیشگوئی پوری ہوتی یا نشان ظاہر ہوتا تو ان دنوں میں خطوط کی تعداد بہت بڑھ جاتی تھی۔ ڈاک کے کام کے واسطے حضور نے میرے ساتھ مکرمی حضرت پیر افتخار احمد صاحب کو بطور مددگار کے مقرر کیا ہوا تھا۔ بعض خط میں انہیں جواب لکھنے کے واسطے دے دیتا تھا وہ لکھ کر میرے دستخط کرا لیتے تھے۔ بعض دوست جو اس امر کے بہت ہی مشتاق ہوتے تھے کہ حضور کے دستخط مبارک کا خط انہیں ملے انہیں اگر حضرت صاحب به سبب کم فرصتی خود خط نہ لکھ سکتے تو میں لکھ کر حضور سے دستخط کرالیتا تا کہ ان کے واسطے کچھ تشفی اور خوشی کا موجب ہو۔ جن خطوط کا جواب عام معلومات کے واسطے مفید ہوتا وہ میں عموماً اخبارات بدر اور الحکم میں چھپوا دیا کرتا تھا تا کہ عوام کو فائدہ ہو اور مجھے بھی ثواب حاصل ہو۔ ابتداء میں جب کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ہجرت کر کے قادیان میں نہیں آئے ہوئے تھے تو ڈاک کا کام حضرت پیر سراج الحق صاحب کے سپر د بھی کچھ عرصہ رہا۔ اس سے قبل حضرت صاحب خود ہی تمام خط و کتابت کا کام کرتے تھے اور بعض دفعہ خطوط حضور کی علالت کے سبب جمع ہو جاتے تو بعض دوستوں کو بلا کر فرمایا کرتے تھے کہ خط بہت جمع ہو گئے ہیں آپ لوگ اکٹھے بیٹھ کر ان کو ھولو اور پڑھو اور جو ضرورت ہو مجھ سے پوچھ لو ۔ ان سب کے جواب لکھ دو ۔ چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہی چند احباب مل کر ڈاک دیکھ رہے تھے کہ ایک لفافہ میں سے رجسٹری شدہ بھی نہ تھا مبلغ تین سو روپے کے نوٹ نکلے جو خط کے ساتھ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے گئے ۔ ( الحکم کے امتی ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۱)