مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 87
مکتوب نمبر۲۲ آپ نے اپنے خط میں کچھ مذہبی رنگ میں بھی نصائح تحریر فرمائی تھیں۔مجھ کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو اس عظیم الشان پہلو سے بھی دلچسپی ہے۔درحقیقت چونکہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے اور تھوڑی دیر کے بعد ہم سب لوگ اصلی گھر کی طرف واپس کئے جائیںگے۔اس لئے ہر ایک کا فرض ہونا چاہئے کہ دین اور مذہب کے عقائد کے معاملہ میں پورے غور سے سوچے پھر جس طریق کو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے موافق پاوے اُسی کے اختیار کرنے میں کسی ذلّت اور بدنامی سے نہ ڈرے اور نہ اہل و عیال اور خوشیوں اور فرزندوں کی پروا رکھے۔ہمیشہ صادقوں نے ایسا ہی کیا ہے۔سچائی کے اختیار کرنے میں اُنہوں نے بڑے بڑے دُکھ اُٹھائے۔یہ تو ظاہر ہے کہ خواہ عقائد ہوںیا اعمال، دو حال سے خالی نہیں۔یا سچے ہوتے ہیں یاجھوٹے۔پھر جھوٹے کو اختیار کرنا دھرم نہیں ہے۔مثلاً وید کی طرف یہ ہدایت منسوب کی جاتی ہے کہ اگر کسی عورت کے چند سال تک بیٹا نہ ہو، بیٹیاں ہی ہوں تو اس کا خاوند اپنی عورت کو دوسرے سے ہمبستر کرا سکتاہے۔اور ایسا سلسلہ اُس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک ایک بیگانہ مرد کے نُطفہ سے گیارہ فرزند نرینہ پیدا ہو جائیں۔اور شاکت مت میں جو وید کی طرف ہی اپنے تئیں منسوب کرتے ہیں یہ ہدایت ہے کہ اُن کے خاص مذہبی میلوں میں ماں اور بہن سے بھی جماع درست ہے اور ایک شخص دوسرے کی عورت سے زنا کر سکتا ہے۔اسی طرح دنیا میں ہزار ہا ایسے مذہب ہیں کہ اگر ان کا ذکر کیا جاوے تو آپ انگشت بدنداں رہیں گے۔پھر کیونکر ممکن ہے کہ انسان صلح کاری اختیار کرکے اُن لوگوں کی ہاں سے ہاں ملاوے۔ایسا ہی عقائد کا حال ہے۔بعض لوگ دریاؤں کی پوجا کرتے ہیں، بعض لوگ آگ کی، بعض سورج کی، بعض چاند کی، بعض درختوں کی، بعض سانپوں اور بلیوں کی۔اور بعض انسانوں کو درحقیقت خدا سمجھتے ہیں۔تو کیا ممکن ہے کہ ان سب کو راستباز سمجھا جاوے؟ جو لوگ دنیا کی اصلاح کے لئے آتے ہیں اُن کا فرض ہوتا ہے کہ سچائی کو زمین پر پھیلا ویں اور جھوٹ کی بیخ کنی کریں۔وہ سچائی کے دوست اور جھوٹ کے دشمن ہوتے ہیں۔مثلاً اگر کسی راستباز کو چند ڈاکو یا چور یہ ترغیب دیں کہ بذریعہ ڈاکو یا کیسہ بری یا نقب زنی کے کوئی مال حاصل کرنا چاہئے تو