مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 84
دیا تھا۔اور پھر بعد اس کے فریقین کی باہمی رضامندی سے دونوں فریق نے بڑے زور سے اس پیشگوئی کو شائع کیا تھا۔اور جس طرح پہلوانوں کی کشتی ہوتی ہے۔اسی طرح دونوں گروہ کا اس پیشگوئی پر خیال لگا ہوا تھا۔آخر بڑی صفائی سے یہ پوری ہوئی۔اس پیشگوئی میں یہ بات نہایت عجیب ہے۔جس کو میں نے زبردست دلائل کے ساتھ اس رسالہ میں بیان کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ پیشگوئی مارچ ۱۸۹۷ء کے مہینہ سے جس میں لیکھرام قتل ہوا ہے۔۱۷ برس پہلے ہماری کتاب براہین احمدیہ کے ایک الہام میں بڑی صفائی سے ذکر کی گئی ہے اور براہین کی تالیف کا وہ زمانہ تھا کہ شاید اس وقت لیکھرام ۱۲۔۱۳ برس کا ہوگا۔یہی وہ بات ہے جس کو خوب غور سے سوچنا چاہئے۔اور یہی وہ امر ہے جس سے معرفت کی ترقی ہوگی۔اور خدا کے فعل اور انسان کے فعل میں کھلا کھلا فرق دکھائی دے گا۔اور دل میں سکینت اور اطمینان پیدا ہو جائیں گے۔اور غالباً اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی مفید ہوگا۔کہ ابھی میں نے اپنے ایک دوسرے رسالہ میں جس کا نام سراج منیر ہے۔اپنی بریت اور سچائی ثابت کرنے کے لئے ایک اور سلسلہ گواہ کی طرح پیش کیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ میں نے وہ تمام پیشگوئیاں جو لیکھرام کے مرنے سے پہلے پوری ہو چکی تھیں۔رسالہ مذکور میں جمع کر کے لکھ دی ہیں۔اور نہایت لطیف طور پر ان کا نظام دکھلایا ہے۔ان پیشگوئیوں کے بعض ایسے آریہ بھی گواہ ہیں جن کے بارہ میں یہ پیشگوئیاں کی گئی تھیں۔سو میرے نزدیک بہتر ہوگا کہ جو صاحب اپنی رائے لکھنے کے وقت سراج منیر کا دیکھنا مناسب سمجھیں وہ مجھ سے طلب کریں۔میں وہ رسالہ ان کی خدمت میں روانہ کر دوں گا اور یہ بات بھی بیان کر دینے کے قابل ہے کہ جیسا کہ آریوں کو اس پیشگوئی کے بارے میں ناحق کے شبہات ہیں۔جن کی وجہ بجز اسکے کچھ نہیں کہ پیشگوئی کی عظمت نے ان کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ایسا ہی ہمارے مخالف مولوی بھی جو روحانیت سے بے بہرہ ہیں۔اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں سو ان کیلئے بھی یہ رسالہ مفید ہوگا۔بشرطیکہ وہ غور سے پڑھیں۔اور یہ رسالہ اس چٹھی کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے کہ آپ رسالہ کے وجوہات پیش کردہ پر غور کر کے اپنے دلی انصاف کے تقاضا سے وہ فتویٰ لکھیں جس کا لکھنا وجوہات معروضہ کی رو سے واجب ہو۔یعنی یہ کہ لیکھرام کے مرنے کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی۔کیا وہ فی الواقعہ پوری ہوگئی یا نہیں اور کیا وہ اس اعلیٰ درجہ فوق العادت پر ہے یا نہیں جس کی نسبت وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہ وہ انسانی