مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 83

خ مکتوب نمبر ۲۱ لاتکتموا الشھادۃ و من یکتمھا فانہ اثم قلبہ واللہ بما تعملون علیم۔تم گواہی کو مت چھپائو اور جواسے چھپاتا ہے اسکا دل بدکار ہے اللہ تعالیٰ اعمال کو خوب جانتا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم صاحب من! میں اس چٹھی کے ہمراہ آپ کی خدمت میں ایک رسالہ بھیجتا ہوں جس کا نام استفتاء ہے اس رسالہ کے لکھنے کی ضرورت یہ ہوئی ہے کہ آریہ قوم نے حد سے زیادہ اس بات پر زور دیا ہے۔کہ لیکھرام اس شخص یعنی اس راقم کی سازش سے قتل ہوا ہے اور میری دانست میں وہ کسی قدر معذور بھی ہیں کیونکہ وہ الہامی پیشگوئیوں کی فوق العادت طریق سے بالکل بے خبر ہیں۔وجہ یہ کہ ان کے عقیدہ کی رو سے ہزار ہا برس سے الہام الٰہی پر مہر لگ چکی ہے اور خدا کا کلام آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔اس لئے وہ کسی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ خدا کی طرف سے ایسی پیشگوئیاں بھی ہو سکتی ہیں۔بہرحال ہمارے ہاتھ میں جو اپنی بریت کے وجوہ ہیں۔ان کا بیان کر دینا نہ صرف لیکھرام کے حامیوں کے شبہات کو مٹانا ہے بلکہ ایسے لوگوں کے معلومات کو بھی وسیع کرنا ہے جو اس زمانہ میں کسی الہامی پیشگوئی کے نفس مفہوم پر بھی اعتراض رکھتے ہیں اور غیب کی باتوں کو قبل از وقت بیان کرنا قانون قدرت کے خلاف خیال کر رہے ہیں۔غالباً یہ رسالہ ان لوگوں کے لئے بھی دلچسپ اور موجب زیادت علم ہوگا جو دلی شوق کے ساتھ اس بات کی تفتیش میں ہیں کہ کیا خدا حقیقت میں موجود ہے۔اور کیا وہ قبل از وقت کسی پر غیب کی باتیں ظاہر کر سکتا ہے۔اسی غرض سے اس رسالہ میں تمام ایسے وجوہ بیان کئے گئے ہیں کہ جو بخوبی ثابت کرتے ہیں کہ وہ پیشگوئی جو لیکھرام کے بارے میں کی گئی تھی۔وہ واقعی طور پر خدا کی طرف سے تھی۔اور کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ وہ انسان کا منصوبہ ہو۔یا انسان اس پر قادر ہو سکے۔اور اس بات کو ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی درخواست لیکھرام نے آپ ہی کی تھی۔اور اس کو اسلام اور آریہ مذہب کے امتحان صدق وکذب کا معیار قرار