مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page x
۱۰ دعا کر دیا کرتا ہوں اس طرح اب دو دفعہ دعا ہو جاتی ہے۔ میں یہ سن کر بہت خوش ہوا کہ میری اس تجویز سے دوستوں کے واسطے دوبارہ دعا ہو جاتی ہے اور میں نے اس سلسلہ کو جب تک ڈاک میرے پاس رہی جاری رکھا ۔ جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو پھر ڈاک اُن کے پاس جانے لگی لیکن اُن کی وفات کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب کی تحریک پر ڈاک پھر میرے سپرد ہوئی تو پھر میں نے اس فہرست کا سلسلہ جاری کیا اور اخیر تک وہ جاری رہا۔ رض جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر حضرت خلیفہ اول مولوی حکیم نورالدین صاحب نے بھی ڈاک کا کام بدستور میرے سپرد ہی رہنے دیا تو میں نے اُن کی خدمت میں بھی ایسی ہی فہرست بنا کر بھیجنی شروع کی حضرت مولانا صاحب اس فہرست کو اپنے سرہانے رکھ لیتے تھے اور تہجد کے وقت اس فہرست کو ہاتھ میں لے کر ایک ایک کا نام دیکھتے اور دعائیں کرتے ۔ بعض شب تہجد کے وقت میں آپ کے پاس پہنچ جایا کرتا تھا۔ جن خطوط پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے کچھ نوٹ نہیں ہوتا تھا اُن کے متعلق میں دریافت کر لیا کرتا تھا کہ اس کا کچھ جواب دیا جائے جن خطوط میں مسائل دریافت کئے ہوتے تھے اُن کے جواب بعض دفعہ خود لکھا دیا کرتے تھے لیکن اکثر یہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب سے پوچھ لیں ( مولوی صاحب مراد حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ہوتی تھی ) عموما اکثر دوست اپنے مولود بچوں کے نام تبرکاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دریافت کرتے تھے اور میں حضرت صاحب سے پوچھ کر نام لکھ دیا کرتا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد حضور نے مجھے فرمایا : ۔ د مفتی صاحب آپ کو اجازت ہے کہ آپ ہماری طرف سے بچوں کے نام رکھ دیا کریں۔ عموماً حضرت صاحب ڈاک کسی خادم کے ہاتھ میرے پاس بھیج دیا کرتے تھے مگر بعض دفعہ خود ہی اپنے ہاتھ میں ڈاک لئے ہوئے نماز ظہر کے واسطے باہر تشریف لاتے تو جو کھڑ کی حضور کے کمروں سے مسجد مبارک میں کھلتی ہے اس سے نکلتے ہی مجھے آواز دیتے کہ یہ ڈاک ہے۔ کوٹ قیصرانی کے بزرگ وو