مکتوب آسٹریلیا — Page 62
62 حقیقت یہ ہے کہ خدا کی ہستی پر قبولیت دعا سے بڑھ کر اور کوئی دلیل نہیں جو انسان کو مطمئن کر سکے۔مذہب کی جان اور روح دعا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کے موضوع پر نہایت عارفانہ انداز میں اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلا ہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے میں نے اپنی طرف کھنچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کر سکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دنیا سے اٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ میں قبولیت دعا کا نمونہ دکھانے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔“ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریرات کی رو سے صفحہ ۶۳۱) پس دعا کا تعلق باریک روحانی امور کے ساتھ ہے۔اس کی قبولیت اور عدم قبولیت روحانی قوانین کے تابع ہے۔اسی طرح جیسے دوا کے اثر کرنے کے لئے بھی کچھ قوانین ہیں۔لہذا گیلپ وغیرہ کے فلسفیانہ سروے کی بنیاد پر دعا کی تاثیر کا فیصلہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی ایسا شخص جس نے زندگی میں خود کوئی پھل نہ چکھا ہو لوگوں سے پوچھ کچھ کر کے مختلف پھلوں کے مزوں کو بیان کرنے کی کوشش کرے۔(الفضل انٹر نیشنل 4۔7۔03)