مکتوب آسٹریلیا — Page 395
395 زمین کی عمر کے اندازے لگائے ہیں۔اختصار کے ساتھ دو اہم ترین ذرائع کا یہاں ذکر کر دینا مناسب ہوگا۔ا۔سمندروں کی عمر: سمندر ہماری زمین کے تقریباً تین چوتھائی حصوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔سمندر کا پانی نمکین ہوتا ہے لیکن کم لوگوں نے اس پر غور کیا ہوگا کہ یہ نمک ان ہی دریاؤں کالا یا ہوا ہے جن کے پانی کو ہم شیریں کہتے ہیں۔سمندر کا پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے لیکن نمک سمندروں ہی میں رہ جاتا ہے۔اس طرح ہر سال سمندر کے پانی میں نمک کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ہمارے سمندروں میں اس وقت جتنا نمک موجود ہے وہ انتہائی مقدار کا تقریباً دسواں حصہ ہے اور اس کا وزن تقریباً چالیس لاکھ ارب ٹن ہے۔دنیا کے تمام دریا ہر سال تقریباً چالیس کروڑ ٹن نمک مختلف سمندروں میں لا ڈالتے ہیں۔اگر ہم سمندروں کے کل نمک اور ہر سال کے اضافہ کا مقابلہ کریں تو سمندروں کی عمر تقریباً ڈیڑھ ارب سال بنتی ہے۔۲۔چٹانوں کی عمر: اللہ تعالیٰ نے چٹانوں میں اپنی ایک گھڑی چھپارکھی ہے جسے دیکھ کر ماہرین ارضیات زمین کی عمر کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔وہ گھڑی یہ ہے کہ کچھ چٹانوں میں Uranium اور Thorium کے Radio Active Elemints پائے جاتے ہیں جو الفاذرات‘ بڑی تیزی سے اپنے چاروں طرف پھیلاتے ہیں۔ان ذرات کے جدا ہونے کی وجہ سے یہ تابکار عناصر بالآخر سیسہ (Lead) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ایک معینہ مدت میں ان خارج ہونے والے الفاذرات کی مقدار کا اندازہ ایک نہایت حساس آلہ ”گیگر کا ؤنٹر کے ذریعہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ ایک ایک ذرہ کے اخراج کو ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ یورینیم کی کسی بھی مقدار کو اس انتشار اور تبدیلی کی وجہ سے نصف رہ جانے میں ساڑھے چار ارب سال لگتے ہیں۔اسی طرح تھوریم کی مقدار کو نصف رہنے میں ساڑھے سولہ