مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 394 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 394

394 میں لگے ہوئے ہیں۔کبھی ان معلومات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نئے حقائق کی روشنی میں پرانے نظریات کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔“ پھر لکھتے ہیں: ”ہماری زمین کی پیدائش کسی ایسے حادثے کا نتیجہ ہے جب آج سے تقریباً دس ارب سال پہلے سورج کسی دوسرے ستارے کے ساتھ ٹکرا گیا یا دونوں اس قدر قریب سے گزرے کہ سورج متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ( اور زمین سورج سے علیحدہ ہو کر گردش کرنے لگ پڑی) جارج کیمو George Gamow نے اپنی کتاب Biography of Earth میں لکھا ہے کہ زمین سورج کے بطن سے دو ارب سال پہلے پیدا ہوئی۔سید محمد تقی صاحب اپنی کتاب روح اور فلسفہ میں زمین کی عمر کے بارہ میں مختلف نظریات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حیات کی عمر سے متعلق اب سے کچھ پہلے تک قیاس یہ تھا کہ وہ اسی کی ہے۔کروڑ سال پہلے وجود میں آئی تھی۔لیکن جدید تحقیقات کی بناء پر حیات کی عمر اس سے بہت زیادہ خیال کی جاتی ہے۔ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر آرتھر ہومس نے بتایا ہے کہ حیات کی عمر لگ بھگ تین ارب سال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب تک حیاتیات کی نصابی کتابوں میں آغاز حیات کی عمر پچاس کروڑ یا زیادہ سے زیادہ اسی کروڑ بتائی جاتی تھی اور کائنات کی عمر دوارب سال مگر تازہ انکشافات سے معلوم ہوتا ہے کہ حیات کی عمر تین ارب سال اور غالباً 66 پانچ یا دس ارب کے درمیان یا اس سے بھی زیادہ ہوگی۔“ الغرض سائنس دان نے زمین پر زندگی کی عمر دوا رب سے دس ارب سال کے درمیان بیان سائنس دان نے زمین کی عمر کے اندازے کس طرح لگائے ہیں؟ یہاں طبعا سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ سائنسدانوں نے