مکتوب آسٹریلیا — Page 376
376 مخفی ہیں اور روح کے تغیرات غیر متناہی ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ روح کے تغیرات غیر محدود ہیں۔یہاں تک کہ بہشت میں بھی وہ تغیرات ہونگے مگر وہ تغیرات رو بہ ترقی ہونگے اور روحیں اپنی صفات میں آگے سے آگے بڑھتی جائیں گی اور پہلی حالت سے دوسری حالت ایسی دور اور بلند تر 66 ہو جائے گی گویا پہلی حالت بہ نسبت دوسری حالت کے موت کے مشابہ ہوگی۔“ (چشمه معرفت صفحه ۱۶۸) پھر فرماتے ہیں: حالت خواب میں روحانی نظارے عجیب و غریب ہوتے ہیں مثلاً کبھی انسان ایک بچہ کی طرح اپنے تئیں دیکھتا ہے اور بیداری کا یہ واقعہ کہ وہ در حقیقت جوان ہے یا بوڑھا ہے اور اس کی اولاد ہے اور اس کی بیوی ہے بالکل فراموش کر دیتا ہے سو یہ تمام نظارے جو عالم خواب میں پیدا ہوتے ہیں صاف دلالت کرتے ہیں کہ روح خواب کی حالت میں اپنے حافظہ اور یادداشت 66 اور اپنی بیداری کی صفات سے الگ ہو جاتی ہے اور یہی اس کی موت ہے۔“ (صفحه ۶۴ حاشیہ) نیز فرماتے ہیں: مجھے ایسے لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی حالت خواب پر بھی غور نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ اگر روح موت سے مستثنیٰ رکھی جاتی تو وہ ضرور عالم خواب میں بھی مستی رہتی۔ہمارے لئے خواب کا عالم موت کے عالم کی کیفیت سمجھنے کے لئے ایک آئینہ کے حکم میں ہے۔جو شخص روح کے بارے میں کچی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ خواب کے عالم پر بہت غور کرے کہ ہر ایک پوشیدہ راز از موت کا خواب کے ذریعہ سے کھل سکتا ہے۔“ (صفحه ۱۶۲،۱۶۱) پس کائنات کی ہر چیز کے لئے موت مقدر ہے۔ہر مخلوق پر فنا آنے والی ہے۔ایک سے