مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 358 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 358

358 اونٹ اور گھوڑے کا مقابلہ ایک جوان اونٹ گھوڑے کے مقابلہ میں زیادہ سفر کر سکتا ہے اونٹ چھ من وزن اٹھا کر ۲۵ میل یومیہ کے حساب سے مسلسل تین دن سفر کر سکتا ہے وزن کے بغیر دس میل فی گھنٹہ کے حساب سے ۱۸ گھنٹے مسلسل دوڑ سکتا ہے۔ایک بار آسٹریلیا میں اونٹ اور گھوڑے کی دوڑ کا مقابلہ ہوا۔۱۰ امیل کا سفر طے کرنا تھا۔گھوڑا معمولی فاصلہ سے مقابلہ جیت گیا لیکن منزل پر پہنچ کر گرا اور مر گیا۔اس کے مقابلہ میں اونٹ ایک رات سویا اور اگلے روز پھر ۱۰ امیل اتنے ہی وقت میں طے کر گیا۔سنجیدہ طبع۔مشقت پسند اونٹ ایک باوقار سنجیدہ طبع۔مشقت پسند۔پابند نظم جانور ہے۔قطار میں چلتا ہے اور اپنے قائد کے نقش قدم پر چلتا ہے۔اگر صبر کا لفظ جانوروں کے لئے استعمال ہوسکتا ہو۔تو اونٹ بے انتہا صبر کا مادہ رکھتا ہے شاید خدا نے اسی لئے قرآن کریم میں مثال دی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ انفرادی اور قومی ترقی کے جو یاں اس سے سبق حاصل کریں۔اونٹ نافع الناس جانور ہے اپنی چالیس سالہ زندگی میں دو نسلوں کی خدمت کرتا ہے۔ہل چلاتا ہے۔کنوئیں سے پانی نکالتا ہے وزن اٹھاتا ہے۔اونٹنی بچہ کی پیدائش کے بعد تین سال تک چار پانچ سیر دودھ روزانہ دیتی ہے۔اس کے بال بہت مضبوط اور گرم ہوتے ہیں جس سے کمبل اور کپڑے بنائے جاتے ہیں۔گوشت کھانے کے کام آتا ہے۔یہ زندگی میں ہی نہیں مرنے کے بعد بھی بنی نوع انسان کے کام آتا ہے۔اس کے چمڑے سے صحرانشین خیمے بناتے ہیں۔قرآنی دعوت غور و فکر ی مضمون نشتہ ہے اور تشنہ رہے گا۔قرآن کریم اونٹ کی تخلیق پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ہر بار غور و فکر سے تحقیق کے نئے میدان سامنے آتے رہیں گے۔یہ دعوت ہم سب کے لئے ہے۔