مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 357 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 357

357 وجہ ہے کہ اس کا فضلہ بہت خشک اور تھوڑا ہوتا ہے۔اور اس کی مینگنیاں خوب جلتی ہیں۔اونٹ کی کوہان بھی بہت کام کی چیز ہے اس میں اونٹ کے پورے جسم کے وزن کے پانچویں حصہ کے برابر چربی جمع ہوتی ہے۔دواڑھائی من سے کم کیا ہوگی۔جب اونٹ کو غذا نہ ملے تو یہی چہ بی ملتی اور طاقت ہم پہنچاتی ہے۔اونٹ کی ساری چہ ہی کو ہان میں جمع ہوتی ہے۔لہذا باقی جسم چربی سے خالی ہوتا ہے۔اسی لئے اونٹ کے گوشت میں چربی نہیں ہوتی۔جسم کی گرمی کو ہان کے علاوہ باقی جسم سے خارج ہوتی رہتی ہے۔لیکن اس کے جسم سے پسینہ خارج نہیں ہوتا۔یوں پانی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔سب سے اہم خصوصیت اونٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی پانی کی ضرورت کم از کم ہوتی ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اونٹ کی ساخت میں درجنوں ایسے عوامل ہیں۔جو پانی کے ضیاع کو روکتے اور اس کی ضرورت کو قلیل ترین حد تک پہنچا دیتے ہیں۔باقی جانوروں کے جسم سے اگر پیشاب کے ذریعہ یور یا خارج نہ ہو تو ان کے جسموں میں زہر پھیل جائے۔لیکن اونٹ کا بدنی نظام ایسا ہے کہ پیشاب جگر میں بار بار چکر لگاتا رہتا ہے اور جگر یوریا کو لحمیات (Protein) میں تبدیل کر دیتا ہے اور پیشاب میں سے طاقت مہیا کرنے والے اجزا اچھی طرح نچوڑ لئے جاتے ہیں۔اس طرح غذا اور پانی دونوں کی بچت ہو جاتی ہے اور پیشاب کی مقدار بہت قلیل رہ جاتی ہے۔(اس جگہ مراد جی ڈیسائی یاد آتے ہیں جو اپنے ہی شربت قارورہ کا ایک جام ہر صبح نوش فرماتے ہیں لیکن اونٹ کے طبعی نظام سے کیا مقابلہ کجا رام رام کجا ٹیں ٹیں پھر باہر کی گرمی روکنے کے لئے اسے قدرت کی طرف سے بالوں کی موٹی تہہ عطا کر دی گئی ہے۔اگر اونٹ زیادہ پر مشقت کام نہ کر رہا ہو اور اسے چرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ اپنی ضرورت کا سارا پانی اپنے چارہ کی نمی سے حاصل کر لیتا ہے اور دس ماہ تک بغیر پانی پئے گزارہ کر سکتا ہے۔اگر کبھی پانی کی نایابی کی مشکل وقت آن پڑے تو اپنے ہی جسم کے پٹھوں سے پانی حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے جسم گھلتا جاتا ہے یہاں تک کہ بغیر خطر ناک کمزوری کے پورے جسم کے چوتھے حصہ کے وزن کے برابر پانی حاصل کر لیتا ہے۔