مکتوب آسٹریلیا — Page 329
329 جائیں تو نا قابل برداشت صدمہ اور رنج مبتلائے جان ہو جائے۔دنیا کی محرومی کی یہی وہ آگ ہے جو دنیا میں ہی دوزخ کا ایک نمونہ دکھا دیتی ہے۔اسی تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دو مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک شخص کا ایک دوست مرگیا جس کے غم میں وہ رور ہا تھا۔اس سے پوچھا گیا تو کیوں روتا ہے تو اس نے کہا کہ میرا ایک نہایت ہی عزیز مر گیا۔اس نے کہا کہ تو نے مرنے والے سے دوستی ہی کیوں کی۔اصل بات یہ ہے کہ مفارقت تو ضروری ہے اور جدائی ضرور ہوگی۔یا یہ خود جائے گا یا وہ جس سے دوستی اور محبت کی ہے پس وہ مفارقت کا عذاب کا موجب ہو جائے گی لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں اور ان فانی اشیاء کے دلدادہ اور گرویدہ نہیں ہوتے وہ ان عذاب سے بچالئے جاتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ہشتم صفحه ۴ ۵-۵۵) خالد ربوہ شہادت (۱۳۴۹)