مکتوب آسٹریلیا — Page 315
315 ایک ایسی پیوند شدہ تصویر ضرور ابھرتی ہے جس سے گریز ممکن نہیں اور یہ تصویر بنیادی طور پر حقیقی ہے اور باوجودیکہ استاد کی شناخت کو مسلسل مخفی رکھا گیا ہے اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔۔۔۔میری رائے میں یہ ساری تھیوریاں اعتبار کے اس بنیادی اصول پر اس لئے پوری نہیں اترتیں کہ یہ صحائف کے مضامین سے از خودا بھرنے کی بجائے اس کے سر پر منڈھی جاتی ہیں۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پروفیسر صاحب درست فرماتے ہیں۔خدا کے ماموروں کی شناخت خدا سے آنے والی روشنی ہی کی مدد سے ہو سکتی ہے۔نیکی کے استاد نے اپنے آپ کو کرم خاکی، عاجز ، بن باپ اور خدا کا برگزیدہ کہا نیکی کے استاد نے نثر کے علاوہ منظوم کلام بھی کافی لکھا۔ان کی نظموں میں خدا کی محبت اور اس کے احسانات پر شکر گزاری کا بہت دلنشین انداز میں ذکر ملتا ہے۔ان نظموں کو متعارف کراتے ہوئے پروفیسر گیز اور مز لکھتے ہیں: (6) "The poems contained in the Scrolls are similar to the biblical psalms۔They are mostly hymns of thanksgiving, individual prayers as opposed to those intended for communal worship, expressing a rich variety of spiritual and doctrinal detail۔But two fundamental themes running through the whole collection are those of salvation and Knowledge۔The sectary thanks God continually for having been saved from the 'lot' of the wicked, and for his gifts of insight into the divine mysteries۔He, a creature of clay' has been singled out by his maker to receive favours of which he feels unworth, and alludes again and again to his frailty and total