مکتوب آسٹریلیا — Page 293
293 باتوں کو نکال دیا جائے تو روایات میں کچھ رہتا ہی نہیں۔لیکن یہ تینوں باتیں کیسی غلط ہیں ( ایضاً صفحہ ۳۹) آگے حضور نے قرآن کریم کی ان آیات کو بیان فرمایا ہے جو روایات کی ان تینوں باتوں کی تردید کرتی ہیں مثلاً یہ کہ ان کے پاس ایسی کوئی سیڑھی نہیں جس کے ذریعہ یہ آسمان پر جا کر خدا کی باتیں سن سکیں۔(الطور ۳۹:۵۲) خدا تعالیٰ نے شیطانوں کو آسمان کی باتیں سننے سے محروم کیا ہوا ہے۔غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔(الشعراء ۲۱۱:۲۶ ۲۱۳) (یونس ۲۱:۱۰) ہاں یہ دور بیٹھے صرف رجماً بالغیب یعنی ڈھکو سلے ہی مار سکتے ہیں۔(سبا ۵۴:۳۴) خدا اپنے منصفی غیب کو صرف رسولوں پر ظاہر کرتا ہے( سورۃ الجن ) پس قرآن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پہلے بھی اپنے اس کلام کی حفاظت فرما تا رہا ہے جو وہ انبیاء پر بھیجتا رہا ہے تا اس میں کوئی دخل نہ دے سکے اور کلام کے ساتھ یہ حفاظت اس وقت تک لگی رہتی ہے جب تک نبی اسے بندوں تک نہیں پہنچا دیتا۔البتہ جب نبی اللہ کا کلام بندوں تک پہنچا دیتا ہے تو پھر شیطان اس کلام کو اچلنے کا کام شروع کرتا ہے اور ظاہر ہے یہ کلام شیاطین الانس ہی کرتے ہیں اور ان کوششوں کو ناکام بنانے والے بھی اللہ کے نیک بندے ہی ہوتے ہیں۔شیطانوں کا وحی میں سے کچھ اچکنے کا مطلب : فرماتے ہیں: حضرت مصلح موعودؓ تفسیر ابن کثیر میں مندرج ابن ابی حاتم کی ایک روایت نقل کر کے بن ابی حاتم کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی جبریل کی حفاظت میں اس مقام تک پہنچا دی جاتی ہے جو وحی کے لئے مقرر ہے یعنی