مکتوب آسٹریلیا — Page 292
292 یہ وہ پانچ مقام ہیں جن میں اس مضمون کو تفصیلاً یا اجمالاً بیان کیا گیا ہے مفسرین اس کی حقیقت یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی وحی ملائکہ پر نازل کرتا ہے تو وہ درجہ بدرجہ نیچے اترتی ہے۔جب سماء الدنیا تک پہنچتی ہے تو جن ایک دوسرے پر چڑھ کر آسمان تک پہنچتے ہیں اور اس خبر کو اڑانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ خبریں اچک اچکا کر جب دوڑتے ہیں تو ان کے پیچھے شہب مارے جاتے ہیں۔اس کے آگے اختلاف ہے۔حضرت ابن عباس کی طرف یہ روایت منسوب کی جاتی ہے کہ شہب شیطانوں کو مار نہیں سکتے بلکہ زخمی کر دیتے ہیں یا بعض عضو توڑ دیتے ہیں۔لیکن حسن بصری اور ایک گروہ کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ شیطان قتل کر دئیے جاتے ہیں۔جو کہتے ہیں کہ شیطان قتل کر دیے جاتے ہیں وہ آگے پھر مختلف الخیال ہیں۔ایک گروہ کہتا ہے کہ جب وہ ساحروں اور کاہنوں کو خبر پہنچا لیتے ہیں تو پھر مار دیے جاتے ہیں اور ماوردی کا قول یہ ہے کہ خبر پہنچانے سے پہلے ٹھہب ان کو جا پکڑتے اور مار دیتے ہیں۔(تفسیر فتح البیان بحوالہ قرطبی)‘ (ایضاً) پرانے مفسرین نے بے احتیاطی سے غیر معروف روایات کو لے لیا ہے: حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: افسوس کہ ان بزرگ مفسرین نے جنہوں نے قرآنی تفسیر کو بیان کرنے میں نہایت محنت اور کوشش سے کام لیا ہے اس معاملہ میں سخت بے احتیاطی برتی ہے اور غیر معروف روایات کے رعب میں آگئے ہیں حالانکہ وہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہیں۔ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) شیطان آسمان کی باتوں کو سن لیتے تھے (۲) ان خبروں میں سے غیب بھی ہوتا تھا (۳) ابلیس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر ان مہب کی مار پیٹ سے ہوئی تھی پہلے نہ تھی۔ان تفاسیر کے یہ تین بنیادی اصول ہیں۔ان تینوں