مکتوب آسٹریلیا — Page 210
210 برطانیہ کے سر دو تار یک موسم کے ستم رسیدوں کو آسٹریلیا کی سیاحت کا مشورہ خبر ہے کہ امسال برطانوی شہریوں کو انتہائی سرد تاریک اور اداس موسم سرما کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جنوری ۹۶ء کے اکتیس دنوں میں صرف ساڑھے انیس گھنٹے سورج کا منہ دیکھنا نصیب ہوا ورنہ گہرے بادلوں نے دنوں کو بھی تاریک بنائے رکھا۔جن کے اعصاب کم زور ہیں وہ ایک ایسی دینی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں جس میں خود کشی کے ذریعہ دنیا ہی چھوڑ دینے کا رجحان پایا جاتا ہے اندازہ ہے کہ برطانیہ کے چار فیصد باسی اس بیماری کا شکار بن گئے ہیں جس کا نام ڈاکٹروں نے SAD یعنی Scasonal Affective Disorder رکھا ہے۔ماہرین نفسیات نے ان کو مشورہ دیا ہے کہ اگر واقعی دنیا چھوڑنے کا ارادہ ہے تو آسٹریلیا چلے جاؤ۔ایک ہی بات ہے، خدا بھلی کرے گا ٹھیک ہو جاؤ گے۔آسٹریلیا کئی لحاظ سے ایک منفرد ملک ہے، اسے دنیا کا پچھواڑا کہا جاتا ہے۔یہ واحد ملک ہے جو سارے کا سارا جنوبی نصف کرہ میں واقع ہے اور ایک پورے براعظم پرمشتمل ہے۔سڈنی سے پر تھ کا سیدھا فاصلہ ۳۲۷۸ کلو میٹر ہے۔سورج ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں تقریباً تین گھنٹے لیتا ہے۔یہاں کے موسم دنیا سے الٹ ہوتے ہیں اور دن رات بھی ( بمقابلہ یورپ ) ملک کے ساحلی علاقے آباد ہیں اور بہت خوبصورت جب کہ باقی اکثر حصہ صحرائی ہے۔ہر وقت ملک کے